Advertisement

پاکستانی آدمی نے اپنی شادی کی ایسی داستان سنادی کہ سن کر ہی ہر پاکستانی مرد کانوں کو ہاتھ لگا لے

Advertisements

مشرقی معاشرے میں شادی بیاہ کے لئے لوگ روایتی طور پر اپنے عزیز و اقارب پر انحصار کرتے چلے آئے ہیں لیکن گزرتے وقت کے ساتھ رشتے کروانے والی پیشہ ور آنٹیاں بھی بہت اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ آج کے دور میں بڑی تعداد میں رشتے انہی آنٹیوں کے ذریعے طے پاتے ہیں البتہ کچھ خواتین نے رشتے کروانے کی آڑ میں فراڈ کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ یہ اپنے چند ہزار کمانے کے لئے کسی کی زندگی برباد کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتی ہیں۔ رشتے کروانے والی دغاباز خواتین کے ڈسے ہوئے ایک نوجوان نے اپنی دردناک داستان ویب سائٹ Parhlo کے ذریعے دنیا کے سامنے بیان کی ہے جس سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ خواتین کیسے کیسے ظلم ڈھا رہی ہیں۔

اس بدقسمت نوجوان کا کہنا ہے کہ ”میرے مصائب کا آغاز اس وقت ہو اجب میری پہلی شادی ایک ایسی لڑکی سے کروادی گئی جو پاگل پن کی حد تک نفسیاتی مسائل سے دوچار تھی۔ یہ شادی ایک دن میں ہی انجام کو پہنچ گئی۔ اس کے بعد ایک اور رشتے کروانے والی آنٹی نے مجھ سے جھوٹ بولا اور ایک ایسی لڑکی سے میری شادی طے کروادی جو پہلے سے شادی شدہ تھی۔ جب بات پکی ہو چکی تھی تو اس لڑکی کا خاوند آیا اور اسے اپنے ساتھ لے گیا۔میری بدقسمتی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد ایک اور خوبصورت لڑکی سے میری بات کروائی گئی۔ وہ طلاق یافتہ تھی اور اس کی دو بیٹیاں تھی۔ ہمارے درمیان بہت اچھا تعلق استوار ہوگیا اور اس کی بیٹیاں بھی مجھے باپ کی طرح چاہنے لگیں۔ میں بھی انہیں اپنی بیٹیاں سمجھ کر پیار کرتا تھا۔ میں نے اسے اپنی پہلی دو شادیوں کے متعلق نہیں بتایا تھا لیکن جب میری والدہ کی اس کے گھر والوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے سب کچھ بتادیا۔ پہلے پہل تو اس صاف گوئی سے کچھ مسائل پید اہوئے او رپھر معاملات بہتر ہونے لگے اور ہماری شادی کی تاریخ طے ہوگئی۔ پھر ایک دن اچانک مجھے اس کا میسج آیا جس میں لکھا تھا ’میرے باپ اور بھائی کو آپ کی دو شادیوں کا پتہ چلا ہے تو اب فیصلہ یہ ہوا ہے کہ ہماری شادی نہیں ہوسکتی۔‘

میں نے جب بات کرنے کے لئے اسے کال کی تو اس کا کہنا تھا ’آپ دو شادیاں پہلے کرچکے ہیں، میرے لئے آپ ناقابل اعتبار اور اجنبی ہیں، اب اگر مجھے تنگ کرنے کی کوشش کی تو میں پولیس کو اطلاع کردوں گی۔‘ بات ختم کرنے سے پہلے اس نے جو الفاظ کہے وہ ہمیشہ مجھے یاد رہیں گے۔ اس کا کہنا تھا کہ ’میں تو بس چیک کررہی تھی کہ ہماری بات بن سکتی ہے یا نہیں اور اب میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ہماری بات نہیں بن سکتی۔“

Advertisement

Source Dailypakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings