Advertisement

ٹھٹھرتی رات میں سڑک کنارے سونے والے باپ بیٹوں کی قسمت کھل گئی

Advertisements

روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر وائرل ہوئی جس نے ہر سوشل میڈیا صارف کی آنکھ نم کر دی۔ اس تصویر میں سردی کے موسم میں سڑک کنارے سوئے ہوئے باپ بیٹوں کو دیکھا گیا۔ موسم کی تلخی اور ٹھٹھرتی رات میں گرم چادر اوڑھے ایک باپ اپنے دو کم سن بیٹوں کے ہمراہ ٹوکریاں فروخت کرتے کرتے کب نیند کی آغوش میں چلا گیا پتہ ہی نہیں چلا اور تب ہی کسی راہ گزر نے ان کی تصویر اُتاری اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔

اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد ہی ایک فرشتہ صفت انسان نے باپ بیٹوں کی مدد کرنے کی ٹھانی اور نہ صرف انہیں نئے کپڑے دلوائے اور کھانا کھلایا بلکہ بچوں کی پڑھائی کے اخراجات اُٹھانے کا بھی وعدہ کیا۔فیس بُک پر موجود ایک فوڈ گروپ میں ایک شخص نے بتایا کہ میں نے سڑک کنارے بیٹھے باپ کو کئی مرتبہ وارننگ دی کہ اپنے ساتھ بچوں کو نہ لایا کرے لیکن اُس نے میری بات نہیں مانی۔

مذکورہ شخص ایک ہاتھ سے معذور اور زخمی ہے۔ تاہم آج میں ان کو اپنے ساتھ لے کر گیا ان کو کھانا کھلایا اور نئے کپڑے دلوائے جس پر اُس شخص نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ سڑک کنارے بیٹھ پر ٹوکریاں فروخت کرنے کے لیے اپنے بچوں کو ساتھ نہیں لائے گا۔ عمر حسن نامی شہری کا کہنا تھا کہ تعلیم دلوانے کے لیے میں ان کم سن بچوں کا ایک قریبی اسکول میں داخلہ کروارہا ہوں ساتھ ہی انہوں نے اس غریب گھرانے کی مدد کرنے کے خواہشمند افراد سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنا عطیہ ان کو جمع کروا سکتے ہیں۔

یاد رہےکہ اس تصویر پر کئی تبصرے کیے گئے اور فیس بُک سمیت ٹویٹر پر بھی یہ تصویر کافی وائرل ہوئی۔ اس تصویر کو لے کر ناقدین نے حکومت کو بھی نشانہ تنقید بنایا اور کہا کہ حکومت نے غریب عوام کو 50 لاکھ گھر بنا کر دینے کے منصوبے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن حکومت کو سب سے پہلے ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہئیے جو گزر بسر کے لیے محنت کرتے ہیں اور کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔

حکومت پر تنقید بڑھی تو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ پنجاب حکومت صوبہ پنجاب میں 5 شیلٹر ہاؤسز تعمیر کر رہی ہے۔ جس میں سے ایک شیلتر ہاؤس 60 روز کے اندر قائم کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اگر کوئی تصویر میں موجود شخص سے متعلق کچھ جانتا ہے تو برائے مہربانی مجھے آگاہ کرے تاکہ اس شخص اور اس کے اہل خانہ کو مدد فراہم کی جا سکے۔

ڈاکٹر شہباز گل کے اس ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بھی اظہار اطمینان کیا اور کہا کہ یہی سوشل میڈیا کی طاقت ہے جس کے ذریعے کم عرصے میں اہم امور کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کروائی جا سکتی ہے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings