Advertisement

وہ وقت جب حضرت امام حسنؓ نے ایک حبشی کی ایسی مراد پوری کردی کہ پھراسکی نسلیں بھی اہل بیت کی غلام بن کر فخر کرتی رہیں

Advertisements

نویں صدی ہجری کے مشہور بزرگ حضرت نور الدین عبدالرحمن بن احمد جامی خراسانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’ شواہد النبوۃ‘‘ میں لکھا ہے ’’ حضرت سیدنا امام حسنؓ حج کے موقع پر مکہ معظمہ پیدل تشریف لے جا رہے تھے تو آپؓ کے قدم مبارک میں ورم آگیا۔ آپؓ کے غلام نے عرض کیا ’’ آپؓ کسی سواری پر سوار ہوجائیں تاکہ قدموں کی سوجن کم ہو ‘‘

حضرت امام حسنؓ نے غلام کی درخواست قبول نہ فرمائی اور فرمایا’’ جب اپنی منزل پر پہنچو تو تمہیں ایک حبشی ملے گا، اس سے تیل خرید لو !‘‘
آپؓ کے غلام نے کہا کہ ہم نے کسی بھی جگہ کوئی دوا نہ پائی اور اور جب اپنی منزل پر پہنچے تو وہ حبشی نظر آیا۔حضرت امام حسنؓ نے فرمایا’’ یہ وہی غلام ہے جس کے بارے میں تم سے کہا گیا ، جاؤ ! اس سے تیل خریدو اور قیمت ادا کردو‘‘

غلام جب تیل خریدنے کے لئے حبشی کے پاس گیا اور تیل پوچھا تو حبشی نے کہا ’’ کس کیلئے خرید رہے ہو ؟‘‘

غلام نے کہا ’’ حضرت امام حسنؓ کے لئے ‘‘

حبشی نے کہا’’ مجھے آپ کے پاس لے چلو! میں آپ کا غلام ہوں‘‘

جب حبشی حضرت امام حسنؓ کے پاس آیا تو عرض کیا’’ میں آپؓ کا غلام ہوں، آپ سے تیل کی قیمت نہیں لوں گا؟ بس میری بیوی کیلئے دعا فرمائیے! وہ دردِزِہ میں مبتلا ہے اور دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ صحیح الاعضاء بچہ عطا فرمائے‘‘ حضرت امام حسنؓ نے فرمایا’’ گھر جاؤ ! اللہ تعالیٰ تمہیں ویسا ہی بچہ فرمائے گا جیسا تم چاہتے ہو ، اور وہ ہمارا پیروکار رہے گا ‘‘ حبشی گھر پہنچا تو گھراور بچے کی حالت ویسی ہی پائی جیسی اس نے حضرت امام حسنؓ سے سنی تھی۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings