Advertisement

وزیر اعظم ہاؤس کے ہیلی کاپٹروں کو خریدار مل گیا

Advertisements

وزیراعظم ہاؤس کے چار پُرانے ہیلی کاپٹر خریدنے اور ان کے بدلے میں ایک نیا ہیلی کاپٹر دینے والا خریدار مل گیا۔ نیلامی کے لیے پیش کیے جانے والے وزیراعظم ہاؤس کے چار ہیلی کاپٹرز ، جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ہیلی کاپٹرز اُڑنے کے قابل نہیں ہیں، کا خریدار مل گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی نیلامی کے بعد وزیراعظم ہاؤس کے چار ہیلی کاپٹرز اور 8 بھینسوں کو بھی نیلام کیا جائےگا۔

نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی بھینسوں کی رونمائی تو سرکاری ٹی وی چینل پرکر دی گئی لیکن ہیلی کاپٹرز کے بارے میں سرکار نے زیادہ تفصیل نہیں بتائی کہ ہیلی کاپٹرز کیسے ہیں، کہاں ہیں اور کتنے کے ہیں؟ سرکاری ذرائعر سے معلوم ہوا کہ ان ہیلی کاپٹرز کی حالت اچھی نہیں ہے، ان میں سے دو ہیلی کاپٹرز چالیس سال اور دو تیس سال سے بھی زیادہ پُرانے ہیں اور اُڑنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔تاہم اب ان ہیلی کاپٹرز کو خریدار مل گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ویسٹ لینڈ آگسٹا ہیلی کاپٹرز کا کاروبار کرنے والے ایک شخص نے وفاقی حکومت کو پیشکش کی کہ وہ یہ چاروں ہیلی کاپٹرز، جہاں ہیں ،جیسے ہیں، کی بنیاد پر خریدنے کے لیے تیار ہیں۔ البتہ ان ان صاحب نے اس پیشکش کو مشروط کر دیا ہے ۔ انہوں نے ایک شرط رکھی اور وہ شرط یہ ہے کہ حکومت ان چاروں ہیلی کاپٹرز کے بدلے ان صاحب سے ایک نیا ہیلی کاپٹر خرید لے اور ان چاروں ہیلی کاپٹرز کی قیمت نئے ہیلی کاپٹر کی قیمت میں سے کاٹ لے۔یہ پیشکش اتنی بھی بُری نہیں ہے لیکن حکومت پاکستان کے قواعد اس سودے کی راہ میں حائل ہیں جن کے مطابق حکومت پاکستان کوئی بھی چیز خریدنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے بولی لینے کی پابند ہے اور یہ سودا کیش کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے اور اس میں اشیا کے تبادلے کی گنجائش نہیں ہے۔ حکومت پاکستان مذکورہ شخص کو ہیلی کاپٹر فروخت تو کر سکتی ہے لیکن اس کے بدلے نئے ہیلی کاپٹر خریدنے کی ضمانت نہیں دے سکتی اور اس یقین دہانی یا ضمانت کے بغیر خریدار پُرانے ہیلی کاپٹرز میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔

نیلامی کے لیے پیش کی جانے والی بھینسوں کی رونمائی تو سرکاری ٹی وی چینل پرکر دی گئی لیکن ہیلی کاپٹرز کے بارے میں سرکار نے زیادہ تفصیل نہیں بتائی کہ ہیلی کاپٹرز کیسے ہیں، کہاں ہیں اور کتنے کے ہیں؟ سرکاری ذرائعر سے معلوم ہوا کہ ان ہیلی کاپٹرز کی حالت اچھی نہیں ہے، ان میں سے دو ہیلی کاپٹرز چالیس سال اور دو تیس سال سے بھی زیادہ پُرانے ہیں اور اُڑنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔تاہم اب ان ہیلی کاپٹرز کو خریدار مل گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ویسٹ لینڈ آگسٹا ہیلی کاپٹرز کا کاروبار کرنے والے ایک شخص نے وفاقی حکومت کو پیشکش کی کہ وہ یہ چاروں ہیلی کاپٹرز، جہاں ہیں ،جیسے ہیں، کی بنیاد پر خریدنے کے لیے تیار ہیں۔ البتہ ان ان صاحب نے اس پیشکش کو مشروط کر دیا ہے ۔ انہوں نے ایک شرط رکھی اور وہ شرط یہ ہے کہ حکومت ان چاروں ہیلی کاپٹرز کے بدلے ان صاحب سے ایک نیا ہیلی کاپٹر خرید لے اور ان چاروں ہیلی کاپٹرز کی قیمت نئے ہیلی کاپٹر کی قیمت میں سے کاٹ لے۔یہ پیشکش اتنی بھی بُری نہیں ہے لیکن حکومت پاکستان کے قواعد اس سودے کی راہ میں حائل ہیں جن کے مطابق حکومت پاکستان کوئی بھی چیز خریدنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے بولی لینے کی پابند ہے اور یہ سودا کیش کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے اور اس میں اشیا کے تبادلے کی گنجائش نہیں ہے۔ حکومت پاکستان مذکورہ شخص کو ہیلی کاپٹر فروخت تو کر سکتی ہے لیکن اس کے بدلے نئے ہیلی کاپٹر خریدنے کی ضمانت نہیں دے سکتی اور اس یقین دہانی یا ضمانت کے بغیر خریدار پُرانے ہیلی کاپٹرز میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings