Advertisement

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس، ارکان اسمبلی نے مہنگائی سے متعلق شکایات کے انبار لگا دئیے،عمران خان نے بڑی یقین دہانی کروادی

Advertisements

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کے سامنے مہنگائی سے متعلق شکایات کے انبار لگا دئیے اور کہاہے کہ پہلے ہی مہنگائی آسمان سے پر ہے، نئے ٹکسوں سے غرہب آدمی پس جائے گا جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غریب کا احساس ہے، کوشش ہے کہ غریب طبقے پر نئے ٹیکسز کا بوجھ نہ پڑے،جو ادارے سفید ہاتھی ہیں ان پر سبسڈی ختم کریں گے،مشکل فیصلے قوم کے مستقبل کے لیے اچھے ثابت ہوں گے۔پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز اور اراکین قومی اسمبلی کو ملکی معاشی صورتحال اور معیشت کے استحکام کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر وزیر اعظم آفس میں بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ اور معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف پروگرام اور ایمنسٹی اسکیم پر بریفنگ دی۔

معاشی ٹیم نے ارکان قومی اسمبلی کے سوالات کے جوابات دئیے۔ارکان نے سوالات کئے کہ آئی ایم ایف پروگرام عام آدمی کی زندگی متاثر تو نہیں کریگا؟ جس پر بتایا گیاکہ انکم اسپورٹ پروگرام کیلئے بجٹ 100 سے بڑھا کر 180 ارب روپے کیا جا رہا ہے،گیس اور بجلی کیلئے 200 ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی۔ بتایاگیاکہ 75 فیصد صارفین پر قیمتوں میں اضافے کا اثر نہیں پڑیگا۔ ذرائع کے مطابق ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کے سامنے مہنگائی سے متعلق شکایات کے انبار لگا دئیے۔ ذرائع نے بتایاکہ مشیر خزانہ کی بریفنگ کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے مہنگائی بڑھنے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی آسمان سے پر ہے، نئے ٹکسوں سے غرہب آدمی پس جائیگا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ غریب کا احساس ہے، کوشش ہے کہ غریب طبقے پر نئے ٹیکسز کا بوجھ نہ پڑے۔انہوں نے کہاکہ جو ادارے سفید ہاتھی بیں ان پر سبسڈی ختم کریں گے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ وقت میں حکومت کو آپ سب کے اعتماد کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے کہاکہ مہنگائی کا احساس ہے لیکن موجودہ حالات میں مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ مشکل فیصلے قوم کے مستقبل کے لیے اچھے ثابت ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق ارکان پارلیمنٹ نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافے پر تحفظات کیا۔ مشیر خزانہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ 300 سے کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفیں پر بوجھ نہیں ڈالا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ بجلی اور گیس کے شعبے میں 200 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ غریب طبقے کو سہولت دینے کے لیے احساس پروگرام کے تحت 180 ارب روپے رکھے جائیں گے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اثاثہ جات ایمنسٹی اسکیم کے تحت 4 فیصد ٹیکس ادا کرکے اثاثے ظاہر کیے جا سکیں گے،آئندہ بجٹ میں 800 ارب روپے ترقیاتی فنڈز کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بجٹ سے پہلے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز کو اعتماد میں لینا ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں ایک مہنگائی کا ایک مصنوعی بحران شروع ہو جاتا ہے اور نیچرل رئیلٹیز بھی ہیں وزیراعظم نے ان کوباور کروایا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں زیادہ سے زیادہ ٹائم دیں اور عوام کی مشکلات کو حل کریں اور مہنگائی کی وجہ بننے والے ذخیرہ اندوزوں پر نظر رکھیں تاکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پر فوکس کیا گیا کہ عوام کی مشکلات کو کس طرح کم کیا جاسکے، ان تمام اقدامات سے پارلیمنٹرینز کو اعتماد میں لیا گیا۔ اجلاس میں آئی ایم ایف کیساتھ ہونیوالے معاہدے پر ارکان کو اعتماد میں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے دو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ان پر بھی ارکان کو بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ ملک اور عوام کا مفاد سیاسی مفاد سے زیادہ عزیز ہے اور ہم نے اس ملک کے مفاد کو دیکھنا ہے، اپنے عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے جو اصلاحات لانے کا وعدہ کیا تھا اس کو پورا کرنا ہے۔

وزیراعظم نے اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی پارلیمنٹرینز کوآگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے دکھ درد کا مداوا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور وہ اس کو حل کرنے کی کوشاں ہے۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings