Advertisement

وزیر اعظم عمران خان ہیلی کاپٹر میں بیٹھتے ہیں تو ان کا کتا بھی ساتھ بیٹھ جاتا ہے جبکہ ان کا سٹاف۔۔۔

Advertisements

سینئر صحافی و کالم نگار سلیم صافی نے حال ہی میں اپنا ایک کالم شائع کیا جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے خرچوں کا ذکر کیا اور کہا کہ بنی گالہ سے وزیراعظم ہاﺅس جانے کیلئے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر میں عمران خان کے ہمراہ ان کا کتا بھی سفر کرتا تھا ۔سلیم صافی کا اپنے کالم میں کہناتھا کہ پہلے کہا گیا کہ وزیراعظم ہاﺅس میں نہیں رہیں گے۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہ رہے ہیں حالانکہ وہ

اسی وزیراعظم ہاﺅ س کے اندر ہے۔ باقی اخراجات اسی طرح ہورہے ہیں جس طرح ماضی میں ہوتے رہے۔ ایک اضافی خرچہ یہ آیا کہ وزیراعظم ملٹری سیکرٹری کے گھر کو استعمال کرررہے ہیںتو ملٹری سیکرٹری پرنسپل سیکرٹری کے گھر منتقل ہوئے جبکہ پرنسپل سیکرٹری نے باہر اپنے لئے گھرلے لیا۔یوں ایک بنگلہ اضافی استعمال میں آنے لگا۔ ریاست مدینہ کا ورد کرنے والے محترم عمران خان صاحب جب سے وزیراعظم بنے ہیں، وہاں سے بغیر ہیلی کاپٹر کے باہر نہیں نکلے۔بنی گالہ اور وزیراعظم ہاﺅس کے درمیان ہیلی کاپٹر استعمال ہورہا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کاکتا بھی ہیلی کاپٹر کے مزے لے رہا ہے۔ جب وزیراعظم بنی گالہ سے ہیلی کاپٹر میں بیٹھتے ہیں تو ان کا سیکورٹی اسٹاف تو سڑک کے راستے گاڑیوں میں وزیراعظم ہاﺅس کی طرف دوڑنے لگتا ہے لیکن کتاوزیراعظم کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ جاتا ہے اور پھر جب وہ وزیراعظم ہاﺅ س سے بنی گالہ تشریف لے جاتے ہیں تو دوبارہ کتا وزیراعظم کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں تشریف رکھ لیتا ہے۔ اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہیلی کاپٹر صرف پچپن روپے فی کلومیٹر خرچہ کرتے ہوئے اڑنے لگے ہیں اور اب کتے بھی ہیلی کاپٹروں میں سفر کرنے لگے ہیں۔ اس سے بڑھ کراسلامی دور کا نمونہ اور کیا ہوسکتا ہے۔سینئر صحافی و کالم نگار سلیم صافی نے حال ہی میں اپنا ایک کالم شائع کیا جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے خرچوں کا ذکر کیا اور کہا کہ بنی گالہ سے وزیراعظم ہاﺅس جانے کیلئے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر میں عمران خان کے ہمراہ ان کا کتا بھی سفر کرتا تھا ۔

سینئر صحافی و کالم نگار سلیم صافی نے حال ہی میں اپنا ایک کالم شائع کیا جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے خرچوں کا ذکر کیا اور کہا کہ بنی گالہ سے وزیراعظم ہاﺅس جانے کیلئے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر میں عمران خان کے ہمراہ ان کا کتا بھی سفر کرتا تھا ۔سلیم صافی کا اپنے کالم میں کہناتھا کہ پہلے کہا گیا کہ وزیراعظم ہاﺅس میں نہیں رہیں گے۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہ رہے ہیں حالانکہ وہ اسی وزیراعظم ہاﺅ س کے اندر ہے۔ باقی اخراجات اسی طرح ہورہے ہیں جس طرح ماضی میں ہوتے رہے۔ ایک اضافی خرچہ یہ آیا کہ وزیراعظم ملٹری سیکرٹری کے گھر کو استعمال کرررہے ہیںتو ملٹری سیکرٹری پرنسپل سیکرٹری کے گھر منتقل ہوئے جبکہ پرنسپل سیکرٹری نے باہر اپنے لئے گھرلے لیا۔یوں ایک بنگلہ اضافی استعمال میں آنے لگا۔ ریاست مدینہ کا ورد کرنے والے محترم عمران خان صاحب جب سے وزیراعظم بنے ہیں، وہاں سے بغیر ہیلی کاپٹر کے باہر نہیں نکلے۔بنی گالہ اور وزیراعظم ہاﺅس کے درمیان ہیلی کاپٹر استعمال ہورہا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کاکتا بھی ہیلی کاپٹر کے مزے لے رہا ہے۔ جب وزیراعظم بنی گالہ سے ہیلی کاپٹر میں بیٹھتے ہیں تو ان کا سیکورٹی اسٹاف تو سڑک کے راستے گاڑیوں میں وزیراعظم ہاﺅس کی طرف دوڑنے لگتا ہے لیکن کتاوزیراعظم کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ جاتا ہے اور پھر جب وہ وزیراعظم ہاﺅ س سے بنی گالہ تشریف لے جاتے ہیں تو دوبارہ کتا وزیراعظم کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں تشریف رکھ لیتا ہے۔ اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہیلی کاپٹر صرف پچپن روپے فی کلومیٹر خرچہ کرتے ہوئے اڑنے لگے ہیں اور اب کتے بھی ہیلی کاپٹروں میں سفر کرنے لگے ہیں۔ اس سے بڑھ کراسلامی دور کا نمونہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

سینئر صحافی و کالم نگار سلیم صافی نے حال ہی میں اپنا ایک کالم شائع کیا جس میں انہوں نے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے خرچوں کا ذکر کیا اور کہا کہ بنی گالہ سے وزیراعظم ہاﺅس جانے کیلئے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر میں عمران خان کے ہمراہ ان کا کتا بھی سفر کرتا تھا ۔سلیم صافی کا اپنے کالم میں کہناتھا کہ پہلے کہا گیا کہ وزیراعظم ہاﺅس میں نہیں رہیں گے۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہ رہے ہیں حالانکہ وہ اسی وزیراعظم ہاﺅ س کے اندر ہے۔ باقی اخراجات اسی طرح ہورہے ہیں جس طرح ماضی میں ہوتے رہے۔ ایک اضافی خرچہ یہ آیا کہ وزیراعظم ملٹری سیکرٹری کے گھر کو استعمال کرررہے ہیںتو ملٹری سیکرٹری پرنسپل سیکرٹری کے گھر منتقل ہوئے جبکہ پرنسپل سیکرٹری نے باہر اپنے لئے گھرلے لیا۔یوں ایک بنگلہ اضافی استعمال میں آنے لگا۔ ریاست مدینہ کا ورد کرنے والے محترم عمران خان صاحب جب سے وزیراعظم بنے ہیں، وہاں سے بغیر ہیلی کاپٹر کے باہر نہیں نکلے۔بنی گالہ اور وزیراعظم ہاﺅس کے درمیان ہیلی کاپٹر استعمال ہورہا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کاکتا بھی ہیلی کاپٹر کے مزے لے رہا ہے۔ جب وزیراعظم بنی گالہ سے ہیلی کاپٹر میں بیٹھتے ہیں تو ان کا سیکورٹی اسٹاف تو سڑک کے راستے گاڑیوں میں وزیراعظم ہاﺅس کی طرف دوڑنے لگتا ہے لیکن کتاوزیراعظم کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ جاتا ہے اور پھر جب وہ وزیراعظم ہاﺅ س سے بنی گالہ تشریف لے جاتے ہیں تو دوبارہ کتا وزیراعظم کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں تشریف رکھ لیتا ہے۔ اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہیلی کاپٹر صرف پچپن روپے فی کلومیٹر خرچہ کرتے ہوئے اڑنے لگے ہیں اور اب کتے بھی ہیلی کاپٹروں میں سفر کرنے لگے ہیں۔ اس سے بڑھ کراسلامی دور کا نمونہ اور کیا ہوسکتا ہے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings