Advertisement

وزیر اعظم عمران خان نے چین کے بعد ملائیشیاء جانے کی تیاری کرلی! 3 روزہ دورے کیلئے کب روانہ ہوں گے ؟ اعلان کردیا گیا

Advertisements

وزیراعظم عمران خان رواں ماہ کے تیسرے ہفتے ملائیشیاء کا دورہ کریں گے،عمران خان کوملائیشیاء کے وزیراعظم مہاتیرمحمد نے دورے کی دعوت دے رکھی ہے،وزیراعظم اپنے3 روزہ دورے میں سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے اور ملائیشیاء کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر بات چیت کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان رواں ماہ نومبر کے تیسرے ہفتے ملائیشیاء کا دورہ کریں گے۔ ملائیشیاء کے وزیراعظم مہاتیرمحمد کی دعوت پر عمران خان 3روزہ دورہ کریں گے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ملائیشیاء کی کاروباری برادری اورسرمایہ کاروں سے خطاب کریں گے۔ وزیراعظم ملائیشین سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان اپنے دورے کے دوران پاکستانی برادری سے بھی خطاب کریں گے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے چین کا پانچ دورہ کیا ہے، وزیراعظم عمران خان اور ان کی قیات میں وفد دو روز قبل ہی چین کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچا ہے۔ وزیرخارجہ شاہد محمود قریشی نے چینی دورے سے متعلق بتایا کہ ہم نے چینی قیادت میں پہلے سے زیادہ گرم جوشی دیکھی۔

چین کے ساتھ تعلقات نہ صرف گہرے ہیں بلکہ مزید بہتر ہوں گے۔ سی پیک منصوبے پر چین کی غلط فہمیوں کو دور کیا ہے۔ سی پیک لانگ ٹرم منصوبہ ہے اس پر یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ ہم نے چین سے معاشی استحکام لانے کے لیے کافی کچھ سیکھنا ہے۔ برآمدات دوگنا کرنے سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح منی لانڈرنگ سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں، منی لانڈرنگ میں ملوث قیدی اپنے ممالک میں سزا مکمل کریں گے۔

معاہدہ کے تحت سزا یافتہ قیدی اپنے اپنے ملک میں سزا پور ی کریں گے۔15 کے قریب کے معاہدوں اور یاداشتو ں پر دستخط کیے گئے۔ تاہم چین کے دورے کے 4 مقاصد تھے۔ وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش کرنٹ خسارے کا بحران ٹل گیا ہے۔ادائیگیوں کے توازن کا بحران عارضی طور پر ختم ہوگیا۔ ہم کرنٹ خسارے کے بحران کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرنٹ خسارے کے بحران سے نکلنے کیلئے 12ارب ڈالر کی ضرورت تھی۔ سعودی عرب نے 6 ارب ڈالر فراہم کیے مزید ذرائع سے بھی رقم آئی ہے۔ سعودی عرب سے 6 ارب ڈالر رواں سال مل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ادائیگیوں میں توازن لانے کیلئے برآمدات بڑھانا ضروری ہے۔ حکومت کا اعلیٰ سطح کا وفد 9 نومبر کو چین جارہا ہے۔ یہ وفد چین میں توازن ادائیگی کے حوالے سے خدوخال طے کرےگا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings