Advertisement

وزیراعظم سے ملاقات کیلئے آنے والے عامر لیاقت کو سٹیٹ گیسٹ ہاوٴس داخلے سے روک دیا گیا۔۔

Advertisements

تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس آئے تاہم سیکیورٹی عملے نے ان کو اندر داخل ہونے سے روک دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر لیاقت گیسٹ ہاؤس کے باہر دس منٹ تک کھڑے رہے تا ہم ان کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔۔عامر لیاقت حسین کا کہنا ہے کہ میں پانچ منٹ جلدی آ گیا اس لیے نہیں جانے دیا جا رہا۔جس کے بعد عامر لیاقت ایک نجی ہوٹل چلے گئے۔۔عامر لیاقت کا کہنا ہے کہ اگر

فاروق ستار پی ٹی آئی میں شامل ہوتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تاہم وہ تحریک انصاف میں شامل نہیں ہو رہے۔۔فاروق ستار کی شمولیت سے متعلق پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی،انہوں نے کہا کہ کراچی کے لیے آج بڑےبڑے اعلانات کیے جائیں گے۔عامر لیاقت عمران خان سے ملاقات کیے بغیر ہی چلے گئے انہوں نے قریبا 35منٹ گیسٹ ہاؤس کے باہر انتظار کیا۔واضح رہےگزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی توہین آمیز گفتگو کرنے سے متعلق معافی مسترد کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے عامر لیاقت کے خلاف 27 ستمبر تک فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا جس کے بعد تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت حسین پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ دوران سماعتچیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ عامر لیاقت نے جواب میں معافی نہیں مانگی۔جواب میں معافی نامے والا پیراگراف قانون کے مطابق نہیں۔اگر توہین عدالت ثابت ہوئی تو عامر لیاقت نااہل ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی وسعت اللہ خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بھی عامر لیاقت حسین کی نااہلی ہونے کی صورت میں فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر نہیں کرے گی۔ اس حوالے سے ذرائع نے بھی بتایا ہے کہ تحریک انصاف خود عامر لیاقت حسین سے جان چھڑوانا چاہتی ہے اور امید کر رہی ہے کہ رکن قومی اسمبلی کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دے دیا جائے۔

تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس آئے تاہم سیکیورٹی عملے نے ان کو اندر داخل ہونے سے روک دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر لیاقت گیسٹ ہاؤس کے باہر دس منٹ تک کھڑے رہے تا ہم ان کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔۔عامر لیاقت حسین کا کہنا ہے کہ میں پانچ منٹ جلدی آ گیا اس لیے نہیں جانے دیا جا رہا۔جس کے بعد عامر لیاقت ایک نجی ہوٹل چلے گئے۔۔عامر لیاقت کا کہنا ہے کہ اگر فاروق ستار پی ٹی آئی میں شامل ہوتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تاہم وہ تحریک انصاف میں شامل نہیں ہو رہے۔۔فاروق ستار کی شمولیت سے متعلق پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی،انہوں نے کہا کہ کراچی کے لیے آج بڑےبڑے اعلانات کیے جائیں گے۔عامر لیاقت عمران خان سے ملاقات کیے بغیر ہی چلے گئے انہوں نے قریبا 35منٹ گیسٹ ہاؤس کے باہر انتظار کیا۔واضح رہےگزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی توہین آمیز گفتگو کرنے سے متعلق معافی مسترد کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے عامر لیاقت کے خلاف 27 ستمبر تک فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا جس کے بعد تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت حسین پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ دوران سماعتچیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ عامر لیاقت نے جواب میں معافی نہیں مانگی۔جواب میں معافی نامے والا پیراگراف قانون کے مطابق نہیں۔اگر توہین عدالت ثابت ہوئی تو عامر لیاقت نااہل ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی وسعت اللہ خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بھی عامر لیاقت حسین کی نااہلی ہونے کی صورت میں فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر نہیں کرے گی۔ اس حوالے سے ذرائع نے بھی بتایا ہے کہ تحریک انصاف خود عامر لیاقت حسین سے جان چھڑوانا چاہتی ہے اور امید کر رہی ہے کہ رکن قومی اسمبلی کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دے دیا جائے۔

تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس آئے تاہم سیکیورٹی عملے نے ان کو اندر داخل ہونے سے روک دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عامر لیاقت گیسٹ ہاؤس کے باہر دس منٹ تک کھڑے رہے تا ہم ان کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔۔عامر لیاقت حسین کا کہنا ہے کہ میں پانچ منٹ جلدی آ گیا اس لیے نہیں جانے دیا جا رہا۔جس کے بعد عامر لیاقت ایک نجی ہوٹل چلے گئے۔۔عامر لیاقت کا کہنا ہے کہ اگر فاروق ستار پی ٹی آئی میں شامل ہوتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں تاہم وہ تحریک انصاف میں شامل نہیں ہو رہے۔۔فاروق ستار کی شمولیت سے متعلق پارٹی قیادت فیصلہ کرے گی،انہوں نے کہا کہ کراچی کے لیے آج بڑےبڑے اعلانات کیے جائیں گے۔عامر لیاقت عمران خان سے ملاقات کیے بغیر ہی چلے گئے انہوں نے قریبا 35منٹ گیسٹ ہاؤس کے باہر انتظار کیا۔واضح رہےگزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی توہین آمیز گفتگو کرنے سے متعلق معافی مسترد کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے عامر لیاقت کے خلاف 27 ستمبر تک فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا جس کے بعد تحریک انصاف کے رہنما عامر لیاقت حسین پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ دوران سماعتچیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ عامر لیاقت نے جواب میں معافی نہیں مانگی۔جواب میں معافی نامے والا پیراگراف قانون کے مطابق نہیں۔اگر توہین عدالت ثابت ہوئی تو عامر لیاقت نااہل ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی وسعت اللہ خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بھی عامر لیاقت حسین کی نااہلی ہونے کی صورت میں فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر نہیں کرے گی۔ اس حوالے سے ذرائع نے بھی بتایا ہے کہ تحریک انصاف خود عامر لیاقت حسین سے جان چھڑوانا چاہتی ہے اور امید کر رہی ہے کہ رکن قومی اسمبلی کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دے دیا جائے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings