Advertisement

نویں اور دسویں محرم کا روزہ

Advertisements

نو اور 10محرم کا روزہ رکھ کر یہ سورۃ پڑھ لیں
اسلام علیکم محرم الحرام کے مہینے میں آپ نے لازمی روزہ رکھنا ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے مہینے کےہیں یعنی مہینے کے اعتبار سے محرم کے مہینے افضل ہیں رمضان کے بعد ویسے توزولحج کے پہلے مہینے میں سارے اعمال افضل ہیں لیکن وہ پہلے دس دنوں کی بات ہے یہاں پورے مہینے کی بات ہورہی ہے لیکن یہ بات ثابت ہے کہ نبی اکرمﷺ نےاس پورے مہینے کے روزے نہیں رکھےاس مہینےکےروزوں کی ت غیب توملتی ہے لیکن پورےمہینے کی پابندی نہیں ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے” افضل الصیام بعد صیام شھر رمضان شھر الله المحرم “ (ترمذی)ترجمہ: ماہِ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل محرم الحرام کے روزے ہیں۔ “ محرم کے مہینے کو قرآن کریم نے عزت واحترام والا مہینہ قرار دیا ہے، خصوصا محرم کی دسویں تاریخ جس کو عام طور پر ”عاشوراء“ کہاجاتا ہے جس کے معنی ہیں ”دسواں دن“یہ دن اللہ تعالی کی رحمت وبرکت کا خصوصی طور پر حامل ہے۔رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے دس محرم (عاشوراء) کا روزہ رکھنا مسلمانوں پر فرض تھا ، بعد میں جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو اس وقت عاشوراء(دس محرم) کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئی لیکن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کو سنت اور مستحب قرار دیا ، ایک حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ مجھے اللہ جل شانہ کی رحمت سے یہ امید ہے کہ جو شخص عاشوراء کے دن روزہ رکھے گا تو اس کے پچھلے ایک سال کے(صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ (مشکوة شریف) نیز دس محرم ہی کے دن اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون سے نجات دلائی تو حضرت موسی علیہ السلام نے اس دن بطور شکرانے کے روزہ رکھا ،اس لیے یہودی بھی اس دن شکرانے کے طور پر روزہ رکھتے تھے ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں جب یہ بات آئی تو آپ نے فرمایا کہ۔

ہم موسی علیہ السلام کے طرز عمل کو اپنانے کے لیے تم(یہودیوں) سے زیادہ حق دار ہیں سو آپ نے خود بھی دس محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (صحیحین) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیات طیبہ میں ہمیشہ عاشوراء کا روزہ رکھتے ، وفات سے پہلے جوعاشوراء کا دن آیا تو آپ نے روزہ رکھا اور ساتھ ہی یہ بھی ارشادفرمایا کہ دس محرم کو ہم مسلمان بھی روزہ رکھتے ہیں اور یہودی بھی ،اس لیے اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو صرف عاشوراء کا روزہ نہیں رکھوں گا بلکہ اس کے ساتھ ایک روزہ اور ملاوٴں گا یعنی ۹ /محرم یا ۱۱/محرم کا روزہ بھی رکھوں گا تاکہ یہودیوں کے ساتھ مشابہت ختم ہوجائے ۔ یہاں‌ایک قابل غور بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں‌کی مشابہت عام زندگی میں‌تو کجا عبادات میں‌بھی آپ نے احتراز فرمایا اور صحابہ کو بھی حکم دیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کی روشنی میں علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ۱۰/محرم الحرام کے ساتھ ۹ / محرم یا ۱۱/ محرم کو بھی روزہ رکھنا چاہئے اور یہ دونوں روزے رکھنا مستحب ہے، صرف دس محرم کے دن روزہ رکھنا مکروہ اور خلاف اولی ہے۔ اور دوستو 9 محرم اور 10 محرم کے روزے کے ساتھ ایک چھوٹا سا عمل ہے جس کے کرنے سے انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے آپ اس دن نیت کریں کہ جتنے بھی مجھ سے گناہ ہوتے ہیں میں وہ گناہ نہیں کروں گا گناہوں کو بلکل آپ چھوڑ دیں اورساتھ ایک وظیفہ کریں آپ سورۃ توبہ افطاری سے پہلے صرف دو مرتبہ سورۃ توبہ پڑھ لیں اول اور آخر میں ایک ایک مرتبہ درود ابرا ہیمی پڑھ لیں پہلے دن بھی آپ یہ عمل کریں اور دوسرے دن بھی افطاری سے پہلے پہلے سورۃ توبہ دومرتبہ آپ لازمی پڑھ لیں۔

ساتھ میں یہ عہد کرلیں کہ یا اللہ مجھ سے جو گناہ ہوئے مجھے معاف کر دے آئندہ زندگی میں گناہ نہیں کروں گا انشاءاللہ اس عمل کی برکت سے اللہ پاک آپ کے رزق میں آپ کے مال میں بہت زیادہ اضافہ عطا فرمائیں گے اور اتنا اضافہ کریں گے کہ آپ کی آنے والی دس نسلیں بھی بیٹھ کر کھائیں گی جو اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی سچے دل سے مانگتا ہے ااور اپنی ااصلاح کرتا ہے اللہ پاک اس کے رزق میں آسانی پیدا کردیتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے تو دوستو آپ سب سے گزارش ہے اس عمل کو زیادہ سے زیادہ شئیرظرورکریں جزاک اللہ خیر

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings