Advertisement

میں کل ایسا کون سا کام کرنے والا ہوں جس کو سب ’’انجوائے‘‘ کریں گے؟وزیراعظم عمران خان کے جواب نے صحافی کو بھی پریشان کردیا

Advertisements

وزیر اعظم عمران خان نے ’’ پناہ گاہ ‘‘ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ آپ میری کل کی ٹاک کو انجوائے کریں گے ۔قرضوں کے حوالے سے جو بات لے کر آرہا ہوں وہ حیرت انگیز ہوگی ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے میں لگے ہوئے تھے اور ملک بحران سے نکل گیا ہے ، حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،لوگوں

کو غربت کی لکیر سے اوپر لانے کیلئے ایک ایسا پیکج لے کر آرہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اورہم اس کیلئے چین کے تجربات سے استفادہ کرینگے ، پاکستان کو ایسی فلاحی ریاست بنائیں گے جس کی مثال دی جائے گی اور کھلے آسمان تلے رات بسر والوں کے لئے ’’ پناہ گاہ ‘‘کا سنگ بنیاد اس کی جانب پہلا قدم ہے ، خیبر پختوانخواہ اور سندھ میں بھی اسی طرز کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں ریلوے اسٹیشن کے قریب کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والوں کے لئے ’’ پناہ گاہ ‘‘ کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ، وفاقی و صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے آمنہ عمران نے وزیر اعظم اور شرکاء کو منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو مبارکبا دیتے ہوئے کہا کہ جب میں نے عثمان بزدار کابطور وزیر اعلیٰ انتخاب کیا تو پارٹی میں سے بھی کچھ لوگوں نے خدشات ظاہر کئے ۔ لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں بادشاہ سلامت ہو جو محلوں میں رہے ، اس کا غیر معمولی پروٹوکول اور 30سے 40کروڑ روپے ایک ،دو سالوں کا انٹرٹینمنٹ بل ہو ۔ یہاں وزیر اعلیٰ کے لئے بادشاہ کا تصور بن چکا تھا ۔ عثمان بزدار ایسے علاقے سے آئے ہیں جہاں بجلی نہیں ،

ڈھائی لاکھ لوگوں کیلئے ایک ہسپتال ہے ، لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ۔ ان مشکلات کا احساس اسی کو ہو سکتا ہے جس نے خود یہ مشکلات دیکھی ہوں کہ مشکل میں کیسے گزارہ ہوتا ہے۔ جب کسی گھر کا بچہ یا ماں باپ بیمار ہو جائیں تو احساس ہوتا ہے اور انسانیت کی قدر ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج تک دنیا میں کوئی معاشرہ مہذب ہوہی نہیں سکتا جس میں احساس اور رحم نہ ہو ۔ ہم نے پہلے اس منصوبے کے بارے میں سوچا تھا ، آگے سردی بھی آرہی ہے لوگ کیسے سردی میں کھلے آسمان تلے رات بسر کریں گے۔ لاہور پہلے ہی سب سے زیادہ پولیٹڈ شہر ہے اور جو لوگ سڑکوں پر رہتے ہیں ان کی صحت پر کیا گزرتی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں وسائل کی نہیں بلکہ احساس کی کمی ہے ، یہ لوگ ووٹ بینک نہیں یہ انتخابات میں کسی کو کامیاب نہیں کر اسکتے اس لئے کسی کو ان کی فکر نہیں تھی ۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران سوشل میڈیا پر ایک مزدور کی اپنے بچوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے کی وائر ل ہونے والی تصویر کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے جب انسان اشرف المخلوقات بنتا ہے تو فرشتوں سے بھی اوپر چلا جاتا ہے لیکن جب گرتا ہے تو جانور وں سے بھی نیچے گر جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام علامہ اقبال کا ایک بہت بڑا وژن تھا جسے قائد اعظم نے عملی جامہ پہنایا ،

قائد اعظم بیسویں صدی کی سب سے بڑی سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے یہ خیال دیا کہ اسلامی ریاست کیا ہوتی ہے ۔ دنیا میں سب سے پہلی مدینہ کی فلاحی ریاست تھی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں حکومت میں آتے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، ملک کے اوپر قرضوں کا پہاڑ چڑھا ہوا تھا ، ہم دو ڈھائی مہینے سے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے میں لگے ہوئے تھے لیکن اب ملک بحران سے نکل گیا ہے اب ہم نے ہر روز کوشش کرنی ہے او ر سوچنا ہے کہ اسے کیسے فلاحی ریاست بننا ہے اور ’’ پناہ گاہ ‘‘ کا سنگ بنیاد اس طرف پہلا قدم ہے۔ چینی مثال ہے کہ ہزار میل کا سفر طے کرنے کیلئے پہلا قدم اٹھانا پڑتا ہے ۔ ہم نے اور بھی بڑے بڑے کام کرنے ہیں ۔ کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والے بے آواز لوگ ہیں کیونکہ یہ کسی کا ووٹ بینک نہیں اسی لئے کسی کو ان کی فکر نہیں تھی ۔یہ سنٹرز ریلوے اسٹیشن، اچھرہ، چوبرجی، داتا صاحب اور شاہدرہ میں بنائے جائیں گے کیونکہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں پر باہر سے لوگ آتے ہیں اور یہ غریب ترین لوگ ہوتے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی آمنہ عمران کی کاوش کو بھی سراہا ۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ’’ پناہ گاہ ‘‘ کی تعمیرات میں یہ نہیں سوچنا کہ یہ غریبوں کیلئے ہے ،جیسے ہسپتالوں میں امیروں کیلئے وی آئی پی روم جبکہ غریبوں کیلئے وہ وارڈز ہوتے ہیں جو مہذب معاشروں میں انسانوں کیلئے نہیں ہوتے ۔ان تعمیرات کو سنٹرآف ایکسیلنس ہونا چاہیے ،اس کیلئے بورڈبنایا جائے گا جو پانچوں سنٹرز کے معاملات کو دیکھے گا ،وزیر اعلیٰ پنجاب سے مل کر اس کے لئے نام دوں گا ، ایسے لوگوں کو بورڈ میں شامل کیا جائے گا جواس طرح کے ادارے چلا رہے ہیں۔ میں تیس سالوں میں ایسے لوگوں سے ملا ہوا جو اللہ کے بہت قریب ہیں اور انسانیت کے بارے میں سوچتے ہیں ۔ ہم ان سنٹرز کے لئے پالیسی بنائیں گے اور ریگولیٹ کریں گے کہ یہ سنٹرز کیسے چلیں گے ،ان میں کھانا دیا جائے گا ۔ ہم نے شوکت خانم میں مسافر خانہ بنایا تھا اور مخیر لوگ اسے پہلے روز سے آج تک چلا رہے ہیں

اور وہ وہاں کھانا بھی دیتے ہیں ، ان سنٹرز کے لئے بھی ایسے ہی لوگوں کو لایاجائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایک ایسا پیکج لا رہے ہیں جو اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں آیا ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو غربت سے کیسے نکالنا ہے ، ہم اس کے لئے کام کرنے والے تمام اداروں کو ایک چھتری تلے جمع کریں گے ۔ چین کے حالیہ دورہ سے خاص سیکھا ہے ہے کہ انہوں نے ایسا کیا اقدامات کئے کہ دنیا کی تاریخ میں صرف تیس سالوں میں 70کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے اوپر آئے اور یہ پیکج آئندہ ہفتہ ،دس دنوں میں آ جائے گا۔ ہم سو روز کے بعد اپنی پوری کارکردگی قوم کے سامنے رکھیں گے اوریہ پیکج اس کا سب سے اہم جزو ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے آج اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ کربہت خوشی ہوئی ہے اور انسان کو ایسے کاموں سے خوش ہونا چاہیے ، حکومتیں تو چلتی رہتی ہیں ، اگر حکومت اس طرح کے کام کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت آتی ہے ، جب قومیں اس طرح کے کام کرتی ہیں تو معاشروں میں برکت آتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شیلٹرز ہوم بنائے گئے ہیں اور یورپ میں ایسا کوئی شخص نہیں جو اس طرح سڑکوں پر رہتا ہو ۔ تاریخ میں دیکھ لیا جائے تو مسلمانوں نے صحرائے بنائے لیکن مغرب نے اسے ماڈل کو اپنایا ۔ پاکستان فلاحی ریاست کے لحاظ سے اسلامی دنیا میں مثال بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، میں نے ایک دفعہ کہا اور انہوں نے خود اس کی نگرانی کی اور آج کام بھی شرو ع ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح میں کھلاڑی چنتا تھا ان میں سے انضمام الحق اور وسیم اکرم بنے اور یہاں بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس موقع پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے ،

وہ ملک نہیں رہتا جہاں رول آف لاء نہ ہو ، ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو فالو کریں گے ، جب قانون ختم ہو گیا تو ملک میں جنگل کا قانون ہوتا ہے ۔ میں واضح کرتا ہوں کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے اور اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے ’’ پناہ گاہ ‘‘ میں رہائش رکھنے والوں کیلئے میرٹ کے سوال کے جواب میں کہا کہ اس کیلئے بورڈ بنے گا او رمیرے خیال میں یہاں رات بسر کرنے کے لئے غریب ہی آئے گا اور اسے یہاں رات بسر کرنے دینی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پنڈی میں بھی اسی طرح کا سنٹر بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ کو کہا ہے اور پشاور میں جگہ ڈھونڈ لی گئی ہے ، کراچی کیلئے گورنر سندھ کو کہا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی کہوں گا کہ جو لوگ سڑکوں پر سوتے ہیں ان کے لئے پناہ گاہیں بنائیں۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings