Advertisement

میر ی جان بھی چلی جائے ، چوروں کونہیں چھوڑوں گا ، وزیر اعظم کا معاشی تباہی کا پتہ چلانے کیلئے ہائی پاور کمیشن بنانے کا اعلان

Advertisements

تفصیلات کے مطابق قوم کو بجٹ پر اعتماد میں لیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میرے پاکستانیوں آج تحریک انصاف نے پہلا بجٹ پیش کیا ہے ، میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بجٹ نظریہ پاکستان کی عکاسی کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میرا نیا پاکستان ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی میں ایک عظیم ملک بنے گا ، یہ ایک عظیم ملک بننے جارہا ہے ، مدینہ کی ریاست ایک ماڈل ریاست تھی ، مجھے افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ مدینہ کی ریاست کے اصول جو تھے ، وہ پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ یورپی ممالک میں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تمام انسان قانون کے تابع ہیں ، ہمارا ملک ایک عظیم ملک بننے جارہاہے ، ریاست مدینہ کا بڑا اصول یہ ہے کہ حکمران عوام کو جوابدہ ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست میں امیر سے پیسہ لیتے تھے اور غریب کا خرچ ہوتا تھا ، ریاست میں احساس تھا ، اقلیتوں کے ساتھ چارٹرڈ سائن کیا گیا تھا ، اقلیتوں کے برابر کے حقوق حاصل تھے ، یہ ایک ماڈل ریاست تھی ،غلاموں کوحقوق دیئے اور عورتوں کوحقوق دیئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نبیﷺ کے جو آخری خطبہ تھا وہ اقوام متحدہ کے چارٹرڈ میں شامل ہے اور میرا بھی یہی نظریہ پاکستان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کوئی پہلے ہی دن ریاست مدینہ نہیں بن گئی تھی ، میں نے پاکستان میں وہ کام کیاہے جو کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بڑے بڑے برج آج جیلوں میں ہیں، یہ ہے نیا پاکستان ، کوئی سوچ سکتا تھا کہ جو ججوں کو فون کرکے فیصلے کراتے تھے ، وہ جیلوں میں ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ اب عدلیہ آزاد ہے ، نیب کا چیئر مین عمران خان نے نہیں لگایا تھا ، ان دونوں جماعتوں نے ملکر لگایا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں تبدیلی آرہی ہے ، آئین اور قانون کی بالا دستی قائم ہورہی ہے ، ہمارے ملک میں جمہوریت اس لئے نہیں چل رہی ہے سیاسی اتفاق رائے نہیں ہے ، مجھے پہلے دن قومی اسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دی گئی ، میں ان کا کیا بگاڑا تھا ، ان پر یہ جوکیسز ہیں یہ سب پرانے کیسز ہے ، ہم نے تو نہیں کیا ، مجھ پر یہ کیوں پہلے دن سے شور مچا رہے ہیں ، میری غلطی کیاہے ؟

میری غلطی یہ ہے کہ میں ان کی بلیک میلنگ میں آکر ان کو این آر او نہیں دے رہا جو یہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ جو غربت ملی اور عوام کوجو ذلیل کیا گیاہے ، یہ دو این آر او کی وجہ سے ہوا ہے ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی دو دفعہ حکومتیں گئیں اور کرپشن کی وجہ سے گئیں، نواز شریف کی دومرتبہ حکومت آئی تو اس نے آصف زرداری کودونوں مرتبہ کرپشن کی وجہ سے جیل میں ڈالا ، آج یہ اکٹھے ہوگئے ہیں۔ نواز شریف کو پہلی بار جنرل مشرف نے این آر او دیا ، یہ پہلے ملک سے باہر لئے گئے اور پھر اپنے رشتہ داروں اور نوکروں کے ذریعے پیسہ واپس لے کر آئے ، دوسرا این آر او آصف زرداری کوملا کیونکہ جب سرے محل فروخت ہوا تو وہ پیسے واپس ملک میں آنے تھے لیکن وہ این آر او سے زرداری کوملے ، ان این آر اوز کی وجہ سے ملک کا بیڑا غرق ہوا ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 2008میں یہ واپس آئے اور میثاق جمہوریت کیا جو میثاق کرپشن تھا کہ تم ہم کونہ پوچھو اور ہم تم کو نہ پوچھیں گے ، جوں جوں ملک پر قرضہ چھ ہزار سے تیس ہزار ارت تک گیا تو اس کے ساتھ ساتھ ہی ان تینوں گھروں کی دولت بھی اوپر گئی ، یہ ادھر پیسہ بناتے تھے اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے باہر بھجوا دیتے تھے اور پھر وہ پیسہ ٹی ٹی کے ذریعے واپس منگوا لیتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف خاندان کی دولت 85فیصد اوپر گئی ، دس سالوں میں چار کمپنیوں سے 85کمپنیاں بنائیں ۔ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی ایک سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ فیک اکاﺅنٹس کے ذریعے سامنے آئی ، وہ خاتون جو ملک سے باہرپیسے لے جاتی ہوئے پکڑی گئی وہ 75بار ملک سے باہرگئی تھی ، وہ کتنا پیسہ ملک سے باہر لے کرگئی ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ اب نواز شریف کی طرف آتے ہیں ، یہ اقامے منی لانڈرنگ کے طریقے تھے ، دبئی میں پاکستانیوں کی نوارب ڈالر کی جائیدادیں ملی ہیں جبکہ ہم آئی ایم یف سے چھ ارب ڈالر لے رہے ہیں جب اوپر والے یہ سب کچھ کررہے تھے تو نیچے والوں کو کس نے روکنا تھا ۔ یہ ساری منی لانڈرنگ ملک کے اوپر بیٹھے ہوئے سربراہ کررہے ہیں ،مجھے مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ جو چوری ملک کے سربراہ کرتے ہیں وہ ملک کونیچے لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں ہمارا بیرونی قرضہ دوارب ڈالر بڑھا لیکن جب ان دونوں کی جمہوریت آئی تو ہمار ا بیرونی قرضہ 41ارب سے 97ارب ڈالر پر گیا ، اس کا مطلب کیا ہوا کہ ہمارے پاس ڈالر کی کمی ہوگئی ، یہ جب 2018میں گئے تو پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ساڑھے 19ارب ڈالر تھا جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا خسارہ تھا ، میری حکومت کو ساڑھے نو مہینے ہوگئے ہیں ، میں نے مشکل سے آٹھ دن کی چھٹی لی ہے ، مجھے خوف تھا کہ ان کے لئے ہوئے قرضوں کی وجہ سے ہمارا ملک دیوالیہ نہ ہوجائے ، یہ اتنا ذہنی دباﺅ تھا کہ اگر ہم دیوالیہ ہوجاتے تو ہم بوری میں پیسے لے جاتے تو ڈبل روٹی ملنی تھی جو آج وینزویلا میں ہورہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے پہلے دن ہی ان کی جانب سے شور مچانا شروع کردیا کہ دیکھیں جی یہ کیا ہورہاہے ، خود ہی ملک کا دیوالیہ نکال کر گئے اور خود ہی افراتفری پھیلا دی کہ یہ جی کیا ہورہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب میں ان سے جواب مانگنے لگا ہوں ، اب پاکستان مستحکم ہوگیاہے ، میں اب ایک کمیشن بنانے لگا ہوں کہ دس سالوں میں ان کی جانب سے جوقرض لیا ہے وہ کہاں گیا ، میری کمیشن ان سے تفتیش کرے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے پوری کوشش کی گئی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کہ جی ہم سڑکوں پر نکل رہے ہیں ، ان کو کوئی فکر اس لئے نہیں تھی کہ ان کی دولت ملک سے باہر پڑی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ہائی پاور کمیشن بنا رہا ہوں جس میں آئی ایس آئی ہوگی ، ایف آئی اے ہوگی اور ملک کے سارے ادارے ہونگے کہ تاکہ پتہ چلے کہ اس ملک کو اس حال تک پہنچایا کیسے گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جائیدادیں ملک سے باہر ہیں ، ملک کے تین دفعہ وزیر اعظم کے بیٹے ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور ارب پتی ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں ، اس لئے جوابدہ نہیں ہیں، ملک کا وزیر خزانہ باہر بھاگا ہوا ہے ، خادم اعلیٰ ملک سے باہر کیا کرنے گیا ، چیک کروانے ، کیا ایک ہسپتال بھی اس ملک میں نہیں بن سکا جہاں شریف خاندان کا علاج ہوسکتا ، شہباز شریف کا داماد اس پلازے کا کرایہ لے رہاہے جو ابھی بنا ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جو کمیشن بنائی ہے ، میں ان سے جواب مانگوں کا کہ ان کی جانب سے اس ملک پر 24ہزار روپیہ کیسے چڑھایا گیا ہے ؟یہ سن لیں کہ میں کسی بلیک میلنگ میں نہیں آﺅں گا کہ جی ہم سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں اور ہم حکومت گرادیں گے ، میں کسی صورت دباﺅ میں آکر بلیک میل ہوکر اپوزیشن کو این آر او نہیں دوں گا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میری جان بھی چلی جائے میں نے ان چوروں کونہیں چھوڑنا ، میں یہ اللہ سے وعدہ کرکے آیا تھا ، میں نے ان کو نہیں چھوڑنا ، ان کے گالیاں دینے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ، جس نے اس ملک کو نقصان پہنچایاہے ، ان میں سے ایک ایک کو نہیں چھوڑنا ۔

انہوں نے کہا کہ ان کے قرضے لینے کی وجہ سے ہم جتنا ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں ، اس کا آدھا ہمیں سود دینا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب لوگوں کیلئے راشن سکیم ، سستے گھر لے کر آرہے ہیں ، ان مشکل حالات میں بھی ہم نچلے طبقے کواٹھانے کیلئے پورا زور لگائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی نے جو قربانی دی ہے ، میں اس کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ دہشت گردی اور مشکل حالات کے باوجود ان کی جانب سے اضافی بجٹ نہیں لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سن لو میں اپنے گھر میں رہتا ہوں ، مجھے کسی کاڈر نہیں ہے ، میں اور شبر زیدی اکٹھا کام کریں گے اور پاکستانی عوام نے مجھے ہمیشہ پیسہ دیاہے کیونکہ وہ مجھ پر اعتماد رکھتے ہیں ، ہم ایف بی آر کو ٹھیک کرکے اسی قوم سے ٹیکس اکٹھا کریں گے ، خود دار قوم بننے کیلئے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیں اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھریں۔ ہم نے مل کر اس ملک کو مشکل سے نکالناہے ، اس ملک کو اپنا ملک سمجھیں ۔

۔ انہوں نے کہا کہ اب نواز شریف کی طرف آتے ہیں ، یہ اقامے منی لانڈرنگ کے طریقے تھے ، دبئی میں پاکستانیوں کی نوارب ڈالر کی جائیدادیں ملی ہیں جبکہ ہم آئی ایم یف سے چھ ارب ڈالر لے رہے ہیں جب اوپر والے یہ سب کچھ کررہے تھے تو نیچے والوں کو کس نے روکنا تھا ۔ یہ ساری منی لانڈرنگ ملک کے اوپر بیٹھے ہوئے سربراہ کررہے ہیں ،مجھے مہاتیر محمد نے کہا تھا کہ جو چوری ملک کے سربراہ کرتے ہیں وہ ملک کونیچے لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں ہمارا بیرونی قرضہ دوارب ڈالر بڑھا لیکن جب ان دونوں کی جمہوریت آئی تو ہمار ا بیرونی قرضہ 41ارب سے 97ارب ڈالر پر گیا ، اس کا مطلب کیا ہوا کہ ہمارے پاس ڈالر کی کمی ہوگئی ، یہ جب 2018میں گئے تو پاکستان کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ساڑھے 19ارب ڈالر تھا جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا خسارہ تھا ، میری حکومت کو ساڑھے نو مہینے ہوگئے ہیں ، میں نے مشکل سے آٹھ دن کی چھٹی لی ہے ، مجھے خوف تھا کہ ان کے لئے ہوئے قرضوں کی وجہ سے ہمارا ملک دیوالیہ نہ ہوجائے ، یہ اتنا ذہنی دباﺅ تھا کہ اگر ہم دیوالیہ ہوجاتے تو ہم بوری میں پیسے لے جاتے تو ڈبل روٹی ملنی تھی جو آج وینزویلا میں ہورہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کے پہلے دن ہی ان کی جانب سے شور مچانا شروع کردیا کہ دیکھیں جی یہ کیا ہورہاہے ، خود ہی ملک کا دیوالیہ نکال کر گئے اور خود ہی افراتفری پھیلا دی کہ یہ جی کیا ہورہاہے ۔

انہوں نے کہا کہ اب میں ان سے جواب مانگنے لگا ہوں ، اب پاکستان مستحکم ہوگیاہے ، میں اب ایک کمیشن بنانے لگا ہوں کہ دس سالوں میں ان کی جانب سے جوقرض لیا ہے وہ کہاں گیا ، میری کمیشن ان سے تفتیش کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے پوری کوشش کی گئی معیشت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کہ جی ہم سڑکوں پر نکل رہے ہیں ، ان کو کوئی فکر اس لئے نہیں تھی کہ ان کی دولت ملک سے باہر پڑی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ہائی پاور کمیشن بنا رہا ہوں جس میں آئی ایس آئی ہوگی ، ایف آئی اے ہوگی اور ملک کے سارے ادارے ہونگے کہ تاکہ پتہ چلے کہ اس ملک کو اس حال تک پہنچایا کیسے گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جائیدادیں ملک سے باہر ہیں ، ملک کے تین دفعہ وزیر اعظم کے بیٹے ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور ارب پتی ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں ، اس لئے جوابدہ نہیں ہیں، ملک کا وزیر خزانہ باہر بھاگا ہوا ہے ، خادم اعلیٰ ملک سے باہر کیا کرنے گیا ، چیک کروانے ، کیا ایک ہسپتال بھی اس ملک میں نہیں بن سکا جہاں شریف خاندان کا علاج ہوسکتا ، شہباز شریف کا داماد اس پلازے کا کرایہ لے رہاہے جو ابھی بنا ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جو کمیشن بنائی ہے ، میں ان سے جواب مانگوں کا کہ ان کی جانب سے اس ملک پر 24ہزار روپیہ کیسے چڑھایا گیا ہے ؟یہ سن لیں کہ میں کسی بلیک میلنگ میں نہیں آﺅں گا کہ جی ہم سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں اور ہم حکومت گرادیں گے ، میں کسی صورت دباﺅ میں آکر بلیک میل ہوکر اپوزیشن کو این آر او نہیں دوں گا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ میری جان بھی چلی جائے میں نے ان چوروں کونہیں چھوڑنا ، میں یہ اللہ سے وعدہ کرکے آیا تھا ، میں نے ان کو نہیں چھوڑنا ، ان کے گالیاں دینے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ، جس نے اس ملک کو نقصان پہنچایاہے ، ان میں سے ایک ایک کو نہیں چھوڑنا ۔

انہوں نے کہا کہ ان کے قرضے لینے کی وجہ سے ہم جتنا ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں ، اس کا آدھا ہمیں سود دینا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب لوگوں کیلئے راشن سکیم ، سستے گھر لے کر آرہے ہیں ، ان مشکل حالات میں بھی ہم نچلے طبقے کواٹھانے کیلئے پورا زور لگائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی نے جو قربانی دی ہے ، میں اس کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ دہشت گردی اور مشکل حالات کے باوجود ان کی جانب سے اضافی بجٹ نہیں لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ سن لو میں اپنے گھر میں رہتا ہوں ، مجھے کسی کاڈر نہیں ہے ، میں اور شبر زیدی اکٹھا کام کریں گے اور پاکستانی عوام نے مجھے ہمیشہ پیسہ دیاہے کیونکہ وہ مجھ پر اعتماد رکھتے ہیں ، ہم ایف بی آر کو ٹھیک کرکے اسی قوم سے ٹیکس اکٹھا کریں گے ، خود دار قوم بننے کیلئے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیں اور لوگوں سے بھیک مانگتے پھریں۔ ہم نے مل کر اس ملک کو مشکل سے نکالناہے ، اس ملک کو اپنا ملک سمجھیں ۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings