Advertisement

’میری شادی کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا، میرا شوہر فوج میں ہے اور اس وقت۔۔۔‘ پاکستانی فوجی کی دلہن نے ایسا خط لکھ دیا

Advertisements

پاکستانی قوم اپنی فوج سے محبت کرتی ہے، البتہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ سازشی لوگ عام شہریوں کا روپ دھار کر پاک فوج پر تنقید کرتے ہیں اور اس ادارے کو بے سر و پا الزامات کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں اگر ذرہ برابر بھی احساس کا جذبہ پایا جاتا ہے تو ایک پاکستانی فوجی افسر کی دلہن کی جانب سے لکھا گیا یہ کھلا خط ان کی آنکھیں کھولنے کے

لئے کافی ہے۔ویب سائٹ Parhlo کے مطابق قوم کی یہ بیٹی اپنے کھلے خط میں لکھتی ہے کہ ”پہلے تو میں اپنا تعارف کروانا چاہوں گی۔ میں ایک فریش گریجوایٹ ہوں جس کی شادی فوج کے ایک ڈاکٹر سے ہوئی ہے۔ میں اپنے خاوند کی بلتورو سیاچن سے بحفاظت واپسی کی منتظر ہوں۔ ہماری شادی چند ماہ قبل ہوئی۔ میرے خاوند 21000فٹ کی بلندی پر سیاچن میں تعینات ہیں۔ ہم بے نیند راتیں گزارتے ہیں اس تفکر میں کہ وہ اور ان کے ساتھی بحفاظت واپس آجائیں۔میں سوشل میڈیا پر فوج کے متعلق ہر طرح کی منفی اور غیر مناسب باتیں دیکھتی ہوں۔ مجھے اپنے شوہر کے ایک ساتھی کی جانب سے فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ میرے خاوند اگلی پوسٹ پر تعینات ہیں اور ٹھیک ٹھاک ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ پریشان کیوں ہیں، تو میں نے اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا میں ٹھیک ہوں۔کیا میں اُن سے کہتی کہ فوج کے ڈاکٹروں، انجینئروں، افسران اور جوانوں کو اس لئے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہ اپنے خاندانوں کو پیچھے چھوڑ کر صفر ڈگری سے کم درجہ حرارت میں ٹھٹھر رہے ہیں؟ کس کے لئے وہ یہ قربانی دے رہے ہیں؟ کیا میرے خاوند کے خون کی قیمت صرف 50ہزار روپے ہے؟

خدا کا نام لو، وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے۔ اس کے تمام ساتھی بھی وزیرستان، بلوچستان، کشمیر اور ساچن جیسی جگہوں پر پوسٹ ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کی شادی حال ہی میں ہوئی ہے۔ ہر دم ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ کوئی صرف 50ہزار روپے ماہانہ کے بدلے اپنی جان کے لئے ایسے خطرات مول لے سکتا ہے؟ وہ اپنی عیدیں ہم سے دُور گزارتے ہیں، اور ہم انہیں ہر موقع پر یاد کرتے ہیں۔پاکستانی قوم اپنی فوج سے محبت کرتی ہے، البتہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ سازشی لوگ عام شہریوں کا روپ دھار کر پاک فوج پر تنقید کرتے ہیں اور اس ادارے کو بے سر و پا الزامات کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں اگر ذرہ برابر بھی احساس کا جذبہ پایا جاتا ہے تو ایک پاکستانی فوجی افسر کی دلہن کی جانب سے لکھا گیا یہ کھلا خط ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ویب سائٹ Parhlo کے مطابق قوم کی یہ بیٹی اپنے کھلے خط میں لکھتی ہے کہ ”پہلے تو میں اپنا تعارف کروانا چاہوں گی۔ میں ایک فریش گریجوایٹ ہوں جس کی شادی فوج کے ایک ڈاکٹر سے ہوئی ہے۔ میں اپنے خاوند کی بلتورو سیاچن سے بحفاظت واپسی کی منتظر ہوں۔

ہماری شادی چند ماہ قبل ہوئی۔ میرے خاوند 21000فٹ کی بلندی پر سیاچن میں تعینات ہیں۔ ہم بے نیند راتیں گزارتے ہیں اس تفکر میں کہ وہ اور ان کے ساتھی بحفاظت واپس آجائیں۔میں سوشل میڈیا پر فوج کے متعلق ہر طرح کی منفی اور غیر مناسب باتیں دیکھتی ہوں۔ مجھے اپنے شوہر کے ایک ساتھی کی جانب سے فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ میرے خاوند اگلی پوسٹ پر تعینات ہیں اور ٹھیک ٹھاک ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ پریشان کیوں ہیں، تو میں نے اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا میں ٹھیک ہوں۔کیا میں اُن سے کہتی کہ فوج کے ڈاکٹروں، انجینئروں، افسران اور جوانوں کو اس لئے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہ اپنے خاندانوں کو پیچھے چھوڑ کر صفر ڈگری سے کم درجہ حرارت میں ٹھٹھر رہے ہیں؟ کس کے لئے وہ یہ قربانی دے رہے ہیں؟ کیا میرے خاوند کے خون کی قیمت صرف 50ہزار روپے ہے؟ خدا کا نام لو، وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے۔ اس کے تمام ساتھی بھی وزیرستان، بلوچستان، کشمیر اور ساچن جیسی جگہوں پر پوسٹ ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کی شادی حال ہی میں ہوئی ہے۔ ہر دم ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ کوئی صرف 50ہزار روپے ماہانہ کے بدلے

اپنی جان کے لئے ایسے خطرات مول لے سکتا ہے؟ وہ اپنی عیدیں ہم سے دُور گزارتے ہیں، اور ہم انہیں ہر موقع پر یاد کرتے ہیں۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings