Advertisement

معروف زمانہ حاتم کے بیٹے نے کس طرح حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا؟ایمان افروز واقعہ

Advertisements

عرب کے شہرہ آفاق حاتم طائی کے فرزند عدی نام مذہباً عیسائی تھے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد متنفر تھے. ملک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اثر اور اسلام کی پذیرائی دیکھ کر تاب نہ لا سکے اور بال بچے مع سامان و شتر ہمراہ لے کر شام میں منتقل ہو گئے، جہاں ان کے ہم مذہب رہتے تھے.

یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو 8ھ میں پچاس سپاہیوں

کے ایک دستہ کے ہمراہ بھیجا کہ قبیلہ طے کا صنم نابت نامی توڑ دیا جائے جہاں کے اسیروں میں حاتم طائی کی صاحب زادی بھی قید کر کے مدینہ میں لائی گئیں.قیدی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے والے باغیچے میں نظر بند کیے گئے.

حاتم کی صاحبزادی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر واویلا شروع کر دیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! غاب الرافد وانقطع الوالد وانا عجوز کبیرۃ مابی خدمہ فمن علی من اللہ علیکیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا سرپرست روپوش ہے

اور والد وفات پا چکے! میں کبر سنی کی وجہ سے کام کاج کے قابل نہیں رہی. مجھ پر احسان فرمائیے. اللہ آپ پر کرم فرمائے گا.رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : تمہارا سرپرست کون تھا؟بی بی: میرے سرپرست حاتم طائی کے فرزند عدی تھے

جو خدا اور اس کے رسول سے بھاگ کر روپوش ہو گئے ہیں.بی بی نے اپنے والد حاتم کی جود و سخا کا تذکرہ بھی کیا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا انہیں خلعت و زاد راہ اور سواری کے لئے اونٹنی دے کر جو قافلہ سب سے پہلے جانے والا ہو،

اس کے ہمراہ واپس بھیج دیجئے! بی بی فرماتی ہیں ! شام میں جا کر یہ واقعہ میں نے اپنے بھائی کو سنایاتو وہ از خود مدینہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور مسلمانوں کی صف میں شامل ہو گئے.

اسی طرح مکہ و حنین کی فتح اور طائف کے محاصرہ سے مدینہ واپس تشریف لے آنے کے بعد وفود کا تانتا بندھ گیا. یہ لوگ آتے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق و قبول اسلام سے مشرف ہوتے. آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقفہ میں نہایت صبر و سکون کے ساتھ زندگی بسر فرما رہے تھے. حوالہ:حیات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: صلحِ حدیبیہ سے وفات ابراہیمؓ تک

Advertisement

Source lkdmedia.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings