Advertisement

مراد سعید کی قیادت میں پاکستان پوسٹ نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دئیے،اپریل تک ریونیو میں کتنا اضافہ ہوگیا؟نیا ریکارڈ قائم

Advertisements

پاکستان پوسٹ نے اپریل تک ریونیومیں 600 کروڑ اضافے کا ریکارڈ قائم کر لیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان پوسٹ نے اپریل تک ریونیومیں 600 کروڑکا اضافہ کرلیا ،رواں سال پاکستان پوسٹ کا اپریل تک ریوینو14 ارب ہوگیا جبکہ پاکستان پوسٹ کا پچھلے سال اس وقت تک ریوینو8 ارب تھا۔اس حوالے سے وفاقی وزیربرائے مواصلات مراد سعید نے کہا کہ انشاء اللہ عمران خان کی قیادت میں تمام اداروں کو خسارے سے نکال کرمنافع بخش بنائیں گے، پاکستان پوسٹ جلد لاجسٹک سیکٹر میں انقلاب برپا کرے گا۔مراد سعید نے کہا کہ ای کامرس کے آغازکے بعد 46000 پارسل سی او ڈی سے پہنچا دی گئی،

پاکستان پوسٹ نے بزنس بڑھنے پرریلوے سے مزید بوگی بھی مانگ لی ہے جبکہ پاکستان پوسٹ جلد پوری دنیا میں میڈ ان پاکستان پراڈکٹس کے پراجیکٹ کا آغاز کرے گا۔

موبائل سروس کمپنی یوفون نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مبینہ طور پر غیرقانونی نیکسٹ جنریشن موبائل سروس (4جی/ایل ٹی ای) کی فراہمی سے متعلق شروع کی گئی انکوائری کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں یوفون حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ نیب نے ان کی انتظامیہ کو ہراساں کرنے کے لیے انکوائری کا آغاز کیا۔درخواست میں کہا گیا کہ قومی احتساب بیورو یوفون سے ایل ٹی ای سروس کی اجازت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جو کہ پہلے سے موجود ہیں اور انہیں موبائل کمپنیوں کے ریگولیٹر سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔یوفون نے دعویٰ کیا کہ مذموم مقاصد کے تحت انکوائری کا آغاز کیا گیا اور عدالت سے طلبی کا نوٹس منسوخ کرنے کی استدعا کی۔درخواست میں یوفون کی جانب سے قومی احتساب بیورو ، پی ٹی اے اور وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو فریق بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نیب نے یوفون کے چیف ریگولیٹری ہیڈ نوید بٹ کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی انتظامیہ کیخلاف پی ٹی ایم ایل / یوفون کو غیرقانونی طور پر 4 جی/ ایل ٹی ای سروس کی اجازت دینے سے متعلق انکوائری میں طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا۔نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ’ متعلقہ اتھارٹی قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت ملزمان کی جانب سے کیے گئے جرم سے آگاہ ہے‘۔نیب کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس میں مزید کہا گیا تھا کہ انکوائری میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ ’ پی ٹی ایم ایل /یوفون کو 4 جی /ایل ٹی ای سروس متعارف کروانے کی اجازت غیر قانونی طور پر ٹیکنالوجی نیوٹریلٹی کی نیلامی کے بغیر دی گئی۔

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings