Advertisement

مدینہ شہر کی دو عورتیں آپس میں باتیں کر رہی تھیں ایک دوسری سے پوچھنے لگی اس شہر کا سب سے بانکا نوجوان کون ہے

Advertisements

ایک عورت رات کے سناٹے میں شراب پینے اور ایک خوبصورت نوجوان سے آرزوئے ملاقات کا اظہار کر رہی تھی۔ اس کی یہ آرزو یا تو برحق تھی یا وہ عورت حقیقت سے قطع نظر محض دل بہلانے کے لئے یہ عاشقانہ اشعار گنگنا رہی تھی۔ بہرحال ظواہر کے اعتبار سے یہ اشعار قابل گرفت ہی قرار پاتے تھے۔ ان اشعار کا ترجمہ:‎کیا مجھے شراب مل سکتی ہے؟‎میں شراب پینا چاہتی ہوں ‎کیا نصر بن حجاج سے ملاقات کا کوئی رستہ نکل سکتا ہے؟‎سیدنا عمر ؓ نے یہ اشعار سن لئے اور صبح کے وقت فورا نصر بن حجاج کو طلب فرمایا۔ وہ حاضر ہوا اور واقعی انتہائی خوبرو اور لمبے بالوں والا نوجوان تھا۔ سیدنا عمر ؓ نے اس کے بال منڈوا دیے۔ بال منڈوانے کے بعد وہ اور بھی خوبصورت لگنے لگا۔ سیدنا عمر ؓ نے اسے پگڑی باندھنے کا حکم دیا۔پگڑی باندھ کر وہ اور بھی حسن و جمال کا پیکر نظر آنے لگا۔ سیدنا عمر ؓ نے اسے مدینہ بدر کر کے بصرہ بھیج دیا۔سیدنا عمر ؓ نے یہ اقدام عورتوں کو فتنے سے بچانے، برائی کا دروازہ بند کرنے اور ان مجاہدین کی عزتیں محفوظ رکھنے کے لئے کیا جو اللہ کے راستے میں محو جہاد تھے۔‎اسی طرح کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔ سیدنا عمر ؓ رات کو مدینہ طیبہ کی گلیوں میں گشت کر رہے تھے، انہیں اچانک کچھ عورتوں کی گفتگو سنائی دی ، وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہی تھیں، بتاؤ مدینہ میں سب سے خوبصورت بانکا جوان کون ہے؟ ان میں سے ایک خاتون نے جواب دیا: وہ ابوزویب ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے ابو زویب کو طلب فرمایا۔ وہ آیا تو حسن کا ایک شاہکار نکلا۔ سیدنا عمر ؓ نے اسے دیکھ کر فرمایا: یقیناً تو عورتوں کے لئے بھیڑیا ہے۔ یہاں سے فوراً چلا جا۔ ہمارے ہاں مدینہ میں کبھی نہ رہنا۔ نوجوان نے عرض کیا: اگر آپ مجھے جلا وطن ہی کرنا چاہتے ہیں تو مجھے میرے چچا نصر بن حجاج کے پاس بھیج دیجئے۔ یہ افراد بنو سلیم قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ غرض سیدنا عمر ؓ نے اسے بھی بصرہ بھیج دیا۔‎مذکورہ اقدامات سیدنا عمر ؓ کی کیسی کیسی گراں قدر صفات کی نشاندھی کرتے ہیں۔ اولاً یہ کہ وہ مسلمانوں کے معاشرے میں پاکدامنی کو کس قدر زبردست اہمیت دیتے تھے، امت مسلم کے کس قدر خیرخواہ تھے، بالخصوص انھیں خواتین کی عزت و تکریم کا کس قدر قوی احساس تھا کہ ان کے لئے لغزش کا ادنیٰ سے ادنیٰ امکان بھی ختم کر دیتے تھے۔ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ہمیں سمجھ آجائے کہ پردہ کرنا صرف عورت کا فرض نہیں بلکہ مرد پر بھی نگاہ پست رکھنا لازم ہے۔

عورت کا اگر سب سے قیمتی زیور حیاء ہے تو مرد کا سب سے قیمتی ہتھیار حیاء ہے۔ آج کے عصری علوم کے تمام مراکز میں عموماً مخلوط نظام تعلیم ہے، تو ان اداروں میں جہاں عورت کو مکمل شرعی طریقے سے خود کو ڈھانپ کر پردے میں جانا چاہیئے وہیں مرد کو بھی چاہیئے کہ اپنی نظر نیچی رکھے۔ اگر واقعی ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے، انہیں عزت دینی ہے، تو ایک دوسرے کے سامنے شرم کو اپنائیے، ایک دوسرے سے حیاء کا حجاب قائم کریں۔یہی ہمارے اور ہماری آنیوالی نسلوں کے حق میں بہتر ہے، وگرنہ مشرق و مغرب میں کوئی فرق نہ رہیگا۔ تب ہر طرف عریانی، فحاشی و بےحیائی کا اندھیرا چھا جائیگا۔ پھر کسی رشتے کی وقعت نہ رہے گی۔ اپنی تہذیب، اپنی روایات اور اپنی اقدار کا خیال رکھیں اور انہیں سنبھال کر رکھیں کہ یہ امانت ہیں ہم پر اپنی آنیوالی نسلوں تک پہنچانے کیلئے۔(واقعات بحوالہ کتاب: عمر ابن الخطاب کی زندگی اور دور، مصنف: ڈاکٹر علی محمد الصلابی، صفحہ نمبر ۳۹۹)

Advertisement

Source dailyausaf.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings