Advertisement

مامون کی حساب دانی ایک روز مامون کے دربار میں ایک عورت نے آکر فریاد کی کہ ’’میرے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے

Advertisements

ایک روز مامون کے دربار میں ایک عورت نے آکر فریاد کی کہ ’’میرے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے ۔اس نے ترکہ میں چھہ سو اشرفیاں چھوڑی ہیں مجھے میرا حق دلایا جائے‘‘۔مامون نے ذرا سکوت کیا اور دل ہی دل میں غور کیا اور حساب لگایااور کہا’’تمہارا حصہ ایک ہی اشرفی بنتا ہے‘‘۔عورت یہ سن کر حیران رہ گئی۔

حاضرین دربار بھی تعجب کرنے لگے۔ایک عالم نے پوچھا کیوں اور کس طرح یہ ہو سکتا ہے؟مامون نے کہا’’متوفی کی دو بیٹیاں ہوں گی۔چھہ سو میں دو تہائی یعنی چار سو اشرفیاں ان کا حق ہے۔ایک والدہ اورایک بیوی ہو گی۔والدہ کا چھٹا حصہ ہوتا ہے۔

سو اشرفیاں والدہ کی ہوئیں،آٹھواں حصہ بیوی کا ہوتا ہے۔پچھتر اشرفیاں بیوی کو ملیں۔صرف پچیس اشرفیاں بچیں۔متوفی کے بارہ بھائی ہوں گے۔یہ پچیس اشرفیاں بھائیوں اور ایک بہن میں تقسیم کی جائیں گی۔بہن سے بھائی کا حصہ دو چند ہوتا ہے۔ہر ایک بھائی کے حصہ میں دو دو اشرفیاں اور بہن کے حصہ میں ایک اشرفی ہو گی‘‘۔جب عورت سے دریافت کیا گیا تو اس نے بتایا’’واقعی متوفی نے یہ وارث چھوڑے ہیں‘‘۔مامون کی حساب دانی اور معاملہ فہمی پر اہل دربار دنگ رہ گئے۔

Advertisement

Source http://pakzindabad.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings