Advertisement

لاہور قلندرز سرپرائز دینے کیلئے تیار! پی ایس ایل 4 میں اے بی ڈیویلئیرز لاہور قلندر کا حصہ بن گئے

Advertisements

پاکستان سپر لیگ کی تیسری مہنگی ترین فرنچائز لاہور قلندرز نے سابق جنوبی افریقی کپتان اے بی ڈیویلیئرز کو اپنے سکواڈ کا حصہ بنا لیا ہے۔ لاہور قلندرز کو پی ایس ایل ڈرافٹ کی پلاٹینیم کیٹگری میں پہلی پک ملی تھی جس میں اس نے اے بی ڈیویلیئرز اور سٹیو سمتھ میں سے کسی ایک کو چننا تھا ۔لاہور قلندرز پاکستان سپر لیگ کی ناکام ترین فرنچائز رہی ہے اور اس نے پی ایس ایل کے تین سیزنز میں26میں سے17مقابلوں میں شکست کھائی ہے ،لاہور قلندرز نے پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن میں کرس گیل کی خدمات حاصل کی تھیں لیکن گرس گیل انجری کا شکار ہونے کے باوجود لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنے آئے اور5میچز میں محض20.60کی اوسط سے 103رنز سکور کرسکے تھے ۔

پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن سے قبل لاہور قلندرز کے لیگ سپنر یاسر شاہ ممنوعہ ادویات کے استعمال کے باعث پابندی کا شکا ر ہوگئے جبکہ مستفیض الرحمان زخمی ہونے کے باعث لاہور قلندرز کو جوائن نہیں کرسکے تھے،لاہور قلندرز کو پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں شان ٹیسٹ ، ڈووین براوو اور اینٹن ڈیو چچ کی خدمات سے بھی محروم ہونا پڑا تھا جب کہ پی ایس ایل تھری کے لیے انہوں نے آسٹریلیوی جارح مزاج بلے باز کرس لین کی خدمات حاصل کی تھیں جو بگ بیش لیگ کے دوران کندھے کے انجری کا شکار ہونے کے باعث ٹیم کو جوائن نہ کرسکے جبکہ فاسٹ باﺅلر سہیل خان بھی زخمی ہونے کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے ، لاہو ر قلندرز کے کپتان برینڈن میکولم بھی ایونٹ میں اپنا رنگ نہ جما سکے اور 2سیزنز کھیلنے کے باوجود ایک بھی نصف سنچری نہ بنا سکے ۔ دوسری طرف پاک بھارت کرکٹ تنازعہ کا آئی سی سی کی ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی نے فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کا کیس خارج کردیا ہے۔انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی )کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی کی جانب سے بنائے جانے والے ڈسپیوٹ پینل نے پاک بھارت کرکٹ تنازعہ پر اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔ تین روز کی سماعت اور دونوں اطراف سے زبانی اور تحریری دلائل کے بعد ڈسپیوٹ پینل نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی )کے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے خلاف دعوی کو مسترد کردیا ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے کے خلاف اپیل بھی نہیں کی جاسکتی۔آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کی درخواست کو کیوں خارج کیا گیا ہے اس حوالے سے تفیصلی فیصلے کے مندرجات کے بعد ہی علم ہوسکے گا۔
خیال رہے کہ سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے 2014ءمیں متنازع بگ تھری کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان چھ سیریز ہونا تھی جن میں 14 ٹیسٹ 30 ون ڈے انٹر نیشنل اور 12 ٹی ٹونٹی شامل تھے لیکن بھارتی بورڈ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

پی سی بی نے آئی سی سی میں دائر اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ 2014ءمیں ہونے والے معاہدے کے بعد اگر پاکستان بھارت کے ساتھ دو طرفہ سیریز نہیں کھیلا تو پاکستان کو سیریز نہ ہونے سے بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی اپیل میں بھارت پر 70 ملین ڈالر جرمانہ عائد کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی ) کو ہونے والے نقصان کا ازالہ ہوسکے،بھارتی بورڈ کا موقف رہا ہے کہ ان کی حکومت سیریز کھیلنے کی اجازت نہیں دے رہی۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹی نے پاکستان کی اپیل پر تین روز سماعت کی جس پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان کی اپیل کو مسترد کردیا گیا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings