Advertisement

قیامت کے روز وہ کونسے لوگ ہوں گے جو چونٹیوں کی شکل اٹھائے جائیں گے

Advertisements

قیامت کے روز وہ کونسے لوگ ہوں گے جو چونٹیوں کی شکل اٹھائے جائیں گے ،حضرت جابر ؓ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا :’’ قیامت کے روز کچھ لوگوں کو چیونٹیوں کی شکل میں اٹھائے گا ۔ لوگ انہیں اپنے قدموں سے روندیں گے ۔ پوچھا جائے گا ، یہ چیونٹیوں کی شکل میں کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گاکہ یہ وہ لوگ ہیں جو تکبر کرتے تھے ۔ ‘‘ (ترغیب و ترہیب ، بحوالہ بزار)۔ یہ تحریر بھی پڑھیں :امام ابو حنیفہ کے پڑوس میں ایک موچی رہتا تھا، دن بھر کام کرتا اور رات کو گوشت یا مچھلی لاکر بھونتا اور کھاکر شراب کا شغل شروع کردیتا۔ جب سرور آتا تو نیند آنے تک یہ شعر بلند آواز میں گاتا رہتا: انہوں نے مجھے ضائع کردیا اور کیسے جوان کو ضائع کیا جو مصیبت کے دن اور سرحد کی حفاظت کے کام آتا امام ابو حنیفہ ساری رات نماز پڑھتے تھے، کئی راتوں تک اس کی آواز نہ آئی تو لوگوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ اسے پولیس لے گئی اور وہ جیل میں ہے۔

امام صاحب فجر کی نماز پڑھ کر اپنے خچر پر گورنر کے پاس بہنچے۔امیر کو معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ انہیں سوار حالت ہی میں اندر آنے دو اور جب خچر فرش پر آجائے تب وہ اتریں۔ گورنر نے اعزاز کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور تشریف آوری کا سبب دریافت کیا۔ فرمایا کہ میرے ایک پڑوسی کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، آپ اسے رہا فرمادیں۔ گورنر نے کہا نہ صرف وہ بلکہ اس رات سے آج تک جتنے لوگ گرفتار ہوئے ہیں،میں ان سب کی رہائی کا حکم دیتا ہوں۔ امام ابوحنیفہ اپنے خچر پر واپس ہوئے۔موچی پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ منزل پر پہنچ کر امام صاحب موچی کے پاس گئےاور دریافت کیا۔ کیا ہم نے تمھیں ضائع کردیا ؟ اس نے جواب دیا۔ نہیں، بلکہ حفاظت کی اور پڑوسی کا حق اداکیا ہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ اور اسی وقت سے موچی نے توبہ کرکے اپنی زندگی بدل دی

Advertisement

Source dailyausaf.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings