Advertisement

قصور میں پیش آنیوالا واقعہ، آخر کار پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی، گرفتار شخص کون نکلا ؟

Advertisements

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ‘ابھی تک گمان یہی ہے کہ ایک ہی بندہ ہے جو بچوں کو راستے میں سے اٹھاتا ہے اور ان کی ڈیڈ باڈی کو پھینک دیتا ہے اور ان کیسز میں زیادہ بچے ہیں۔’ بی بی سی کا کہناہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں مبینہ طور پر کم سن لڑکی زینب کے ریپ اور قتل پر سعودی عرب سے پاکستان واپس پہنچنے پر زینب کے والدین نے حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

زینب کی والدہ نے کہا کہ ‘مجھے کچھ نہیں چاہیے صرف انصاف چاہیے۔‘ ان کے والد نے کہا کہ ’زینب کی تدفین تب تک نہیں کریں گے جب تک اس واقعے کا مجرم پکڑا نہیں جائے گا‘۔ زینب کے قتل کے بعد قصور میں مظاہرے شروع ہو گئے جن میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق اس وقت مرکزی شہر کے مختلف تھانوں میں چھ سے زائد کیسز ایسے ہیں جن میں بچوں کو اغوا کے بعد قتل کر کے ان کی لاشوں کو اسی علاقے میں پھینک دیا گیا۔

زینب اور دیگر بچوں کے کیسز کی تفتیش سے منسلک پولیس افسر افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دو سو سے زیادہ افسران پر مشتمل جے آئی ٹی چھ ماہ سے اسی قسم کے کیسز کو دیکھ رہی ہے لیکن ابھی تک بچوں کا قاتل ڈھونڈنے میں مشکلات اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ‘ابھی تک گمان یہی ہے کہ ایک ہی بندہ ہے جو بچوں کو راستے میں سے اٹھاتا ہے اور ان کی ڈیڈ باڈی کو پھینک دیتا ہے اور ان کیسز میں زیادہ بچے ہیں۔

‘ سب انسپکٹر افتخار احمد نے بتایا کہ 2016ء کے بعد سے اب تک وقفے وقفے سے ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ سب انسپیکٹر افتخار احمد کا کہنا ہے کہ زینب کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد نامعلوم شخص نے کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ بی سی سی کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زینب کے والدین عمرے کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ان کے چچا نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ساتھ ہی خالہ کا گھر ہے زینب بچوں کے ساتھ پڑھنے کے لیے گئی تھی۔ بھرا بازار ہے سب اپنے ہی ہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کہاں گئی۔ جمعرات کو بچی غائب ہوئی اور جمعے کو ہم نے 12 بجے صبح ثبوت دیے لیکن پانچ دن بچی زندہ رہی لیکن ان سے کچھ نہیں ہو سکا۔ جگہ جگہ کارروائی کی اور گاڑیاں بھگاتے ہیں لیکن پلے کچھ نہیں ہے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings