قصور زینب کا ہی تھا

جہاں پچاس روپے میں فحش ویڈیوز سے میموری کارڈ فل کرکے دے دیا جاتا ہو، جہاں انٹرنیٹ پر ایک لفظ لکھنے سے بچہ بچہ فحش مواد تک رسائی رکھتا ہو۔ وہاں آپ کیا امید رکھتے ہیں؟ آج 7 سالہ زینب کا نہیں پوری پاکستانی قوم کی غیرت کا جنازہ نکلا ہے۔ سب سے دردناک لمحہ ان والدین کیلئے ہی ہوگا کہ عمرے پر جانے سے پہلے ان کے سامنے زینب کا پھول جیسا چہرہ تھا، اور واپسی پر اس کی قبر پر پھول ہونگے۔ اور زینب جیسی نو پریاں اور؟ اگر زینب والے واقعے کو بھی سوشل میڈیا پر نہ اٹھایا جاتا تو باقی نو واقعات کی طرح

الیکٹرانک میڈیا چپ ہی رہتا۔ زینب کے مجرم پکڑے بھی گئے تو انھوں نے اعتزاز احسن، بابر ستار، سلمان اکرم راجہ، فاروق نائیک یا اکرم شیخ کو وکیل کر لینا ہے اور پھر یہ سارے وکلا آپ کو ثابت کر کے دکھائیں گے کہ قصور زینب کا ہی تھا۔ اس نے فحش لباس پہنا ہوا تھا وہ گھر سے باہر کیوں تھی۔ ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے۔ در اصل ہم سبق نہیں سیکھتے، بات تھوڑی پرانی ہو جائے تو حقائق پس پشت ڈال دیتے ہیں اسی قصور میں اگر سو بچوں کے ساتھ زیادتی والے واقعے کو دبایا نہ ہوتا ہم بھولے نہ ہوتے تو آج حالات اور ہوتے۔