Advertisement

قرضے اتنی آسانی سے نہیں ملتے! آئی ایم ایف نے نئی حکومت کے سامنے سخت شرائط رکھ دیں

Advertisements

پاکستان نے ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر آئی ایم ایف سے باضابطہ رابطہ کر لیا ہے اور مدد کی درخواست کی ہے جس پر آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے سامنے کڑی شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لوگارڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مکمل شفافیت کے ساتھ بتانا ہو گا کہ اس نے چین سمیت کس سے کب کب قرض لیا اور کہاں خرچ کیا۔

کرسٹین لوگارڈ کے مطابق کسی ملک کو بھی بیل آؤٹ پیکج دینے سے قبل اس کے تمام قرضوں کے بارے میں مکمل آگاہی ضروری ہوتی ہے۔ دیکھا جائے گا کہ پاکستان اب قرض کا کتنا بوجھ برداشت کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو بیل آؤٹ پیکج کی درخواست کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

ہیدرنوئرٹ کا کہنا تھا کہ ممکن ہے حکومتوں کے نزدیک بیل آؤٹ کے لیے یہ قرض اتنا بوجھل نہیں ہو گا لیکن یہ قرضے پاکستان کے لیے مشکل تر ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان نے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے معاونت کی باضابطہ درخواست کی تھی۔ پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے انڈونیشیا میں عالمی مالیاتی فنڈ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی جس میں مالی معاونت کی درخواست کی گئی۔

پاکستان کی درخواست کا جائزہ لینے کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیم آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کرے گی، اس ملاقات میں گورنر اسٹیٹ بینک اور اقتصادی ڈویژن کے حکام شامل تھے۔ واضح رہے کہ پاکستان گذشتہ ہفتے معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔ آئی ایم ایف اس سلسلے میں پہلے ہی آمادگی کا اظہار کر چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو رواں سال کے دوران 8 سے 9 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings