Advertisement

عمران خان نے اپنے ملک کا جھنڈا کئی کامیابیوں میں لہرایا ٗترک صدرطیب اردوان نے تعریفوں کے پل باندھ دیئے،پاکستان کو بہت بڑی پیشکش کردی

Advertisements

 پاکستان اور ترکی نے افغانستان کے مسئلے کے جلد پر امن حل کیلئے مشترکہ کاوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہاہے کہ خطے میں امن کیلئے افغانستان میں امن ناگزیر ہے ٗ افغانستان، پاکستان اور ترکی کا سربراہ اجلاس استنبول میں ہوگا ٗخطے میں امن کیلئے پاکستان، افغانستان اورترکی کے سہ فریقی اجلاس وقت کی اہم ضرورت ہے جس کا تسلسل باقاعدگی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان داعش کیخلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہے ٗافغان مسئلے کے حل میں علاقائی طاقتوں کا کردار اہم ہے ٗبھارتسے مرکزی تنازعہ کشمیر ہے،

جس پر نئی دہلی بات کرنے کو تیار نہیں ٗ پاکستان میں اگلے 5 سال میں 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے ٗ ہاؤسنگ شعبے میں ترک کمپنیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ٗگھروں کی تعمیر میں ترک کمپنیوں کی معاونت درکار ہے۔ جمعہ کو وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے یہاں ملاقات کی جس میں دوطرفہ، علاقاتی اور عالمی امور خاص طور پر افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششوں پر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان اورترک صدر رجیت طیب اروان کی ملاقات کے بعد ترک صدر اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مابین ملاقات کے بعد پاکستان اور ترکی کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں عمران خان پاکستانی وفد اور رجب طیب اردوان ترک وفد کی قیادت کررہے تھے ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی زلفی بخاری بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے ۔مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدرطیب اردوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کا انقرہ میں خیر مقدم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تعلقات ہیں جن میں گرم جوشی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ترک فاؤنڈیشن سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ عمران خان نے پاکستان میں تبدیلی کیلئے بہت جہدوجہد کی۔ترک صدر نے وزیراعظم عمران خان کو الیکشن میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے بطور کھلاڑی اپنے ملک کا جھنڈا کئی کامیابیوں میں لہرایا۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کرکٹ کی طرح عمران خان سیاست میں بھی کامیاب ہونگے۔ ترک صدر نے بتایا کہ پاکستانی وزیراعظم کی طرح میں بھی کھلاڑی رہا ہوں، عمران خان اب بھی کپتان ہیں اور میں فٹ بال ٹیم کا کپتان تھا۔ترکی کے صدررجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان اور ترک کے تعلقات گہرا تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔ترک صدر نے کہا کہ وہ پاکستانی وزیراعظم کے مولانا روم کے مزار کی زیارت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ عسکری، سیاسی، تجارتی اور دوستانہ تعلقات ہیں، خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات طویل عرصے تک آگے بڑھیں۔ ترک صدر نے کہا کہ سہ فریقی اجلاس سے متعدد دیگر مسائل بھی حل ہوں گے جو تینوں ممالک کو درپیش ہیں۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے تاہم پاک ترک کے مابین دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کام کریں گے۔ترک صدر نے کہا کہ ہم نے پاکستان سے تربیتی طیارے حاصل کیے اس طرح ترک دفاعی نظام میں شامل میزائل اسلام آباد کو فروخت کیے جائیں گے۔رجب طیب اردوان نے 2019 کو پاک ترک تعلقات کے لیے سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا

کہ رواں برس دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم ہوں گے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ پاکستان میں اگلے 5 سال میں 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے اس لیے ہاؤسنگ شعبے میں ترک کمپنیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور ان گھروں کی تعمیر میں ترک کمپنیوں کی معاونت درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مدینے کی ریاست کی طرز بھی نظام لانا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ترک صدر سے افغان مسئلے پر بات چیت ہوئی ،پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ،عالمی برادری سے افغان مسئلے میں مزید کردار چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان، پاکستان اور ترکی کا سربراہ اجلاس استنبول میں ہوگا، ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں، خطے میں امن کیلئے افغانستان میں امن ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ افغانستان میں جنگ کے باعث شہری گزشتہ 3 دہائیوں سے متاثر ہو رہے، پاکستان پہلے ہی افغان طالبان اور امریکی انتظامیہ کے مابین مذاکرات میں اپنا کردار ادا کررہا ہے تاہم عالمی برادری کو مثبت کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔وزیراعظم نے ایک بار پھر سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کیلئے بھارت کے ساتھ بھی مذاکرات کے خواہاں ہیں۔وزیراعظم نے ہم نئی دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہش مند ہیں اس ضمن میں متعدد کوششیں بھی تاہم دوسری جانب سے منفی رویہ اختیار کرنے پر مایوسی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے مذاکرات نہ کرنے کے لیے جواز گھڑا کہ جب تک پاکستان دہشت گردی ختم نہیں کرے گا تو بھارت مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی رویہ مایوس کن رہا جب تک مذاکرات نہیں ہوں گے تو تعلقات کیسے آگے بڑھیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے، بھارتی جس قدر کشمیر میں طاقت کا استعمال کرے گا، انسانی حقوق کے صورتحال اسی قدر متاثر ہوگی۔انہوں نے کہاکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھارت نے کشمیر تنازعے میں بھی پاکستان کو قصوار ٹھہرایا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ترکی نے شام جنگ کے متاثرین کی مدد کیلئے بہترین کردار ادا کیا ہے ،داعش کیخلاف جنگ میں پاکستان ترکی کے ساتھ ہے۔و زیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے ترکی کی آزادی کی جدو جہد میں حصہ ڈالا،انہوں نے کہاکہ پاکستانیوں کی ترکی سے محبت تیسری پشت تک آ پہنچی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی کی دوستی کئی دہائیوں پر محیط ہے ٗ ترکی سے تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور تعلقات کو بلندیوں پر لے جائینگے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ صحت کے شعبے میں ترکی کے تجربات سے فائدہ اٹھاناچاہتے ہیں۔ عمران خان نے کہاکہ تعلیم کے شعبے میں بھی ترکی کی کاوشیں قابل تقلیدہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ترک سرمایہ کاروں کو ہرممکن سہولیات فراہم کریں گے اور تجارتی اور اقتصادی سطح پر نئے رحجانات کو بڑھانے کیلئے اپنے ہمراہ وزیر تجارت اور اقتصادیات کو ساتھ لایا ہوں۔ عمران خان نے کہا کہ ترکی کے ساتھ محض تجارتی نہیں بلکہ خارجہ تعلقات چاہتے ہیں جس کے دائرہ میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ بھی شامل ہو۔ وزیراعظم نے ترکی میں لیگل ایڈ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ غربت کے باعث جنہیں عدالت میں اپنے مقدمات کی پیروی میں معاونت حاصل ہوتی ہے ٗان کیلئے لیگل ایڈ کا نظام موجود ہے

اور اسی طرز کے نظام کی تشکیل کے لیے پاکستان میں کوشش جاری ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ایک مربوط تعلیمی نظام تشکیل دے کر سہ تعلیمی نظام کی نفی کی جائیگی۔قبل ازیں ترک ایوان صدر آمد پر وزیراعظم عمران خان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔اس سے قبل وزیراعظم پاکستان اور ترک صدر نے انقرہ کی مسجد میں نماز جمعہ ایک ساتھ ادا کی۔اس کے علاوہ پاکستان اور ترکی کے درمیان انقرہ میں وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کی جبکہ ترک وفد کی قیادت وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے کی۔مذاکرات میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تجارت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ترک وزیر خارجہ کو خطے میں روابط کے فروغ اور افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے کیے گئے اپنے حالیہ دوروں کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی طرف سے افغانستان کے مسئلے کے جلد پر امن حل کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے اور ترکی افغان امن کے لئے پاکستان کی کاوشوں کا معترف ہے ۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان اور کشمیر سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان اور ترکی کے موقف میں یکسانیت خوش آئند ہے ۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات حکومتوں تک محدود نہیں ۔ ہماری محبت کے پیچھے ثقافت، مذہب اور عوام کی محبت کارفرما ہے ۔دوران مذاکرات پاکستان اور ترکی کے مابین دوطرفہ تعلقات، تجارت ، سرمایہ کاری کے فروغ سمیت دیگر اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوا ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ترک وزیرخارجہ کو افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کے حوالے سے حالیہ پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے ترک ہم منصب کو پاکستان کی ان کوششوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو افغانستان، ایران، چین، روس اور قطرکی شمولیت سے افغانستان میں امن کے فروغ کے لیے کی جارہی ہیں۔ وزیر خارجہ شای محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں افغانوں کو قبول اور ان کی اپنی قیادت میں مفاہمتی حل کے لئے جاری عمل ایک اہم پیشرفت ہے اور افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک بالخصوص افغانستان کے ساتھ واقع ملک افغانستان میں دہائیوں سے جاری تنازع کے حل کے خواہاں ہیں۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی قریبی شراکت دار ہیں اور اہم موضوعات پر مشترکہ کاوشوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے مسئلہ کے حل کیلئے ترکی کی جانب سے ہارٹ آف ایشیا استنبول پروسس کے ذریعے کی جانے والی امن کوششوں میں کلیدی کردار کو سراہا۔اطراف نے پاکستان اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میں بے مثال روایتی گرمجوشی، قربت اور عوامی سطح پر روابط استوار ہیں۔ اس تعلق کی جھلک مختلف عالمی اور علاقائی موضوعات پر دونوں ممالک میں پائی جانے والی ہم آہنگی اور نقطہ نظر سے دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان اور ترکی سٹرٹیجک مقامات پر واقع ہیں اور انہیں یکساں نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کے تجربات سے بے پناہ استفادہ کرسکتے ہیں

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings