Advertisement

عقل کے اندھے

Advertisements

ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ہو جائے گی.اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب قمتي چیز کو ہاتھ لگاؤں گا. کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندي کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی،

کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے.سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جاے۔ بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ہو رہی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے بادشاہ کو چھو لیا.بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی بادشاہ اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی ہر چیز بھی اس کی ہو گئی.جس طرح بادشاہ نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کی. ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا مالک بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم عقل کے اندھےلوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں.ہم اللہ کوحاصل کرنے کی بجاےاللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں.لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے مالک کو پا لیا جاے.اگر مالک ہمارا ہو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ہو جائے گیایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ہو جائے گی.اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب قمتي چیز کو ہاتھ لگاؤں گا.

ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ہو جائے گی.اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب قمتي چیز کو ہاتھ لگاؤں گا. کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندي کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے.سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جاے۔بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ہو رہی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے بادشاہ کو چھو لیا.بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی بادشاہ اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی ہر چیز بھی اس کی ہو گئی.جس طرح بادشاہ نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کی. ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا مالک بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم عقل کے اندھےلوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں.ہم اللہ کوحاصل کرنے کی بجاےاللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں.لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے مالک کو پا لیا جاے.اگر مالک ہمارا ہو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ہو جائے گی

Share

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings