Advertisement

عافیہ صدیقی کی پاکستان منتقلی کا معاملہ!! وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عافیہ صدیقی کی منتقلی کیلئے اہم قدم اُٹھا لیا

Advertisements

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکہ میں قید ڈاکٹر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کے مابین ملاقات ہوئی ہے۔ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی پاکستان منتقلی سے متعلق بات چیت ہوئی۔شاہ محمود قریشی نے فوزیہ صدیقی کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں کی جانے والی کوششوں سے متعلق آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہوسٹن میں پاکستانی قونصلر جنرل کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں

۔شاہ محمود قریشی نے عافیہ صدیقی کے لیے قونصلر وزٹس کے اہتمام کی ہدایات جاری کر دی۔ وزٹ کا مقصد عافیہ صدیقی کی صحت ارور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔خیال رہے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے امریکی حکام سے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے جبکہ اس معاملے کو امریکی حکام کے ساتھ بارہا اُٹھایا گیا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیپاکستان واپسی کے تین ممکنہ راستے ہیں۔ امریکی جیل میں قید داکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے کہا کہ عافیہ صدیقی کو پاکستان لانے کے تین راستے ہیں۔ پہلا تو یہ ہے کہ پاکستان اس عالمی معاہدے کا شریک بن جائے جس میں مجرمان کو اپنے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ پہلے سے ہی اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے، لیکنپاکستان اس معاہدے کا رکن نہیں ہے۔
اس حوالے سے درکار ایک قانونی نقطپہ عافیہ صدیقی کی جانب سے اس منتقلی کی درخواست تھی اور فوزیہ صدیقی کے مطابق عافیہ صدیقی کی جانب سے عمران خان کو پیغام کی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیاہے کہ امریکہ کے نائب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بروس شوارٹس نے ایک خط میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اس معاہدے میں شرکت کر لیتا ہے تو امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان بھیجنے کے لیے تیار ہو جائے گا، اگرچہ فوزیہ صدیقی کے پاس مذکورہ خب موجود نہیں ہے لیکن ان کے مطابق یہ پاکستانحکام کے پاس موجود ہے۔

فوزیہ صدیقی نے کہا کہ عافیہ صدیقی کو پاکستان لانے کا دوسرا راستہ امریکہ اور پاکستان کے مابین مذاکرات ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے امریکہ نے مثبت اشارے دئے ہیں تاکہ ہم ان کی تفصیلات وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے بعد ہی ظاہر کر سکتی ہیں۔ فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ عافیہ صدیقی کو پاکستان لانے کا تیسرا راستہ صدارتی معافی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور حکومت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صدارتی معافی کی تیاری کی جا رہی تھی تاہم پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر بروقت کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے یہ معاملہ التوا کا شکار ہو گیا تھا۔ واضح رہے کہ قبل ازیں فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی مشروط رہائی کے لیے رضامند ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ پاکستان سے بعض شرائط منوانے کے بدلے عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ پاکستان سے کچھ چیزیں چاہتا ہے اور ان کے عوض وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان کے حوالے کرنے لیے تیار ہے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings