Advertisement

سی پیک کے تحت سب سے شاندار منصوبہ 5 ماہ قبل ہی مکمل کر لیا گیا

Advertisements

سی پیک کے تحت بنائے جانے والے تھر کول پاور پلانٹ کو سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے مقررہ وقت سے پانچ ماہ قبل مکمل کر لیا، پاکستان میں پیدا ہونیوالے کوئلے کا 660 میگاواٹ کا تھرکول پاور پلانٹ جنوری2019 میں فعال ہو جائے گا جس کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کریں گے گزشتہ روز سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سی ای او شمس الدین احمد شیخ نے “این این آئی” سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہوگا جب تھر کے لیگنائٹ کوئلے سے تیار ہونیوالی سستی ترین بجلی پاکستان کے نیشنل گرڈ میں شامل ہونا شروع جائے گی

انہوں نے بتایا کہ مقامی کوئلے سے سستی بجلی پیدا کرنے کا جو خواب دیکھا تھا وہ اب شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے تھر کے بلاک ٹو میں پہلے مرحلے میں 330میگاواٹ کے دو پاور پلانٹس لگائے گئے ہیں جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور جنوری میں یہ پلانٹس آپریشنل ہو جائیں گے جن سے 660 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی انہوں نے بتایا کہ تھر کول پاور پلانٹ کو یکم اگست 2018کو کامیابی سے نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے شمس الدین احمد شیخ نے بتایا کہ تھر میں کوئلے کے 175 ارب ٹن سے زائد کے ذخائر ہیں جو آئندہ 50 سالوں کے لیے کافی ہیں کوئلے کے ان ذخائر کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے زریعے بجلی کے علاوہ ڈیزل ، گیس میں تبدیل کر کے کھاد ، پلاسٹک اور دیگر صنعتوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے انہوں نے بتایا کہ ہم “تھر بدلے گا پاکستان” کے عملی منشور کے تحت کام کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ ملک میں گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور اب ہمارے پاس موقع ہے کہ کوئلے کے ذخائر کو گیس کی تیاری کے استعمال میں لایا جائے انہوں نے بتایا کہ تھر کے بلاک ٹو میں 38لاکھ ٹن کوئلہ سالانہ حاصل کیا جاسکے گا، منصوبے کی سرمایہ کاری سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تھر کول مائننگ پروجیکٹ میں 54فیصد شیئر حکومت سندھ کے ہیں لیکن اس منصوبے کے لئے ہمیں تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کا بھرپور تعاون حاصل رہا ہے انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں چینی کمپنیوں سمیت دیگر کمپنیوں کا بھی اشتراک ہے لیکن 95 فیصد سرمایہ کاری پاکستانیوں کی ہے اور یہ سی پیک میں نجی شعبے کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے شمس الدین احمد شیخ نے حکومت سے اپیل کی کہ پاکستان میں درآمدی کوئلے سے چلنے والے دیگر پاور پلانٹس میں 20فیصد تھر کے کوئلے کواستعمال کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اس سے زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور پاکستان کا اپنا کوئلہ بھی استعمال ہو سکے گا، تھر میں لگایا جانیوالا پاور پلانٹ سب کریٹکل ٹیکنالوجی کا حامل ہے تاہم آئندہ جو پلانٹس لگائے جائیں وہ سپر کریٹکل ٹیکنالوجی کے حامل ہونے چاہئیں کیونکہ سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی ماحول کے لیے زیادہ بہتر ہے اور فضائی آلودگی کا کم خطرہ ہوتا ہے تاہم سب کریٹکل ٹیکنالوجی سے بھی آلودگی کو کم سے کم کرنے میں مدد ملے گی ہم نے اپنے منصوبے میں ماحولیاتی آلودگی کے تدارک پر بھرپور توجہ دی ہے ایک سوال کے جواب میں شمس الدین احمد شیخ نے بتایا کہ تھر کول پاور پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کی نوکریوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے یہاں کام کرنیوالے 4399 ورکرز میں سے 3303 مقامی تھر کے رہائشی ہیں ان لوگوں کو تربیت دے کر ملازمت فراہم کی گئی ہے ، اس وقت تھر کی 26 خواتین ڈرانیورز بڑے ڈمپر چلاتی ہیں جنہں ہم نے تربیت دی جبکہ مجموعی طور پر58خواتین کام کر رہی ہیں مزید 140خواتین کو ملازمت فراہم کی جائیگی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ غربت میں گھر ے تھر کے لوگوں کی زندگیوں کو خوشحالی اور ترقی میں بدلنے کے لیے متعدد سماجی منصوبے شروع کیے گئے ہیں یہاں کے باشندے اپنے آپ کو متاٹرین نہیں بلکہ منصوبے سے فوائد حاصل کرنے والے کہتے ہیں پاور پلانٹس منصوبے میں مقامی افراد کو تین فیصد شیئرز دیئے جائیں گے، اینگرو کمپنی تھر کے لوگوں کے لیے 175گھروں پر مشتمل ایک گاؤں تیار کر رہی ہے جس میں شمسی بجلی، وائی فائی انٹرنیٹ سمیت تمام سہولیات ہونگی ان گھروں میں رہائشیوں کے مال مویشی رکھنے کی بھی خصوصی جگہ تعمیر کی گئی ہے ، 24سکول قائم کیے گئے ہیں جہاں بچے ہماری طرف سے فراہم کردہ یونیفارم پہن کر آتے ہیں ان یونیفارم کی تیاری کے لئے تھر کی مقامی خواتین کو نوکری دی گئی ہے جبکہ اس سال مزید 35 سکول قائم کئے جائیں گیانہوں نے بتایا کہ صحت کی جدید سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لئی250 بستروں پر مشتمل ہسپتال اور مقامی لوگوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے متعدد واٹر منصوبے لگائے گئے ہیں ، تھر میں ماحولیات کو ٹھیک رکھنے کے لئی10لاکھ پودے لگائے گئے ہیں اور سندھ کی سب سے بڑی نرسری ہمارے پاس ہے انہوں نے بتایا کہ مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی کے لیے تربیتی انسٹیوٹ قائم کیا گیا ہے جہاں مقامی تھری نوجوانوں ، خواتین کو تربیت دی جارہی ہے اور انہیں روزگار فراہم کیا گیا ہے جس سے تھر کے مکین خوشحال ہوئے ہیں ، تھر کے لوگوں مٰیں ترقی کی امید پیدا ہوئی ہے شمس الدین احمد شیخ نے بتایا کہ تھر کا بھارت سے صرف 92 کلومیٹر کا فاصلہ ہے تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں تھر کا کوئلہ بھارت کو درآمد کیا جاسکتا ہے کیونکہ تھر پارکر کے سرحد پار بھار ت میں کوئلے سے چلنے والے متعد د پلانٹس کام کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ تھر کا کوئلہ عالمی معیار کا ہے تاہم لیگنائیٹ کوئلے کی اس قسم میں نمی زیادہ ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے تھر فاؤنڈیشن قائم کی ہے جس کے تحت علاقے میں تعمیروترقی اور یہاں کے رہائشیوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے بھرپور اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ہمیں یہاں کے باسیوں کا مکمل تعاون حاصل ہی-

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings