گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں ایک لاکھ 57 ہزار سے زائد افراد نے ٹائیگر فورس کے لئے رجسٹریشن کروائی جو کہ عید الفطر کے فوراً بعد صوبہ بھر میں کام شروع کردے گی، ابتداء میں اس فورس کو احساس سینٹرز اور یوٹیلٹی اسٹورز پر تعینات کیا جائے گا۔

رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی، اراکین صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان، اشرف قریشی کے ہمراہ گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ ٹائیگر فورس کے لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے رجسٹریشن کروائی ہے،جن میں 48416 طلباء، 2275 میڈیکل ورکر،9251انجینئر، 5931 اساتذہ، 10293 سول سرونٹس، 1877 آرمڈ فورسز کے ملازمین، 3959این جی او ورکر، 591 صحافی، 15822پرائیویٹ بزنس، 1099 وکیل، 21124سوشل ورکر، 3788 کار پوریٹ سیکٹر سے منسلک افراد شامل ہیں،تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے ان میں 31751میٹریکولیشن/ او لیول، 34207 ایف اے/ ایف ایس سی / اے لیولز، 22558بیچلرز ڈگری، 11671 ماسٹر ڈگری، 533ایم بی بی ایس، 943 ایم فِل/ایم ایس، 264 ڈاکٹوریٹ، 98پوسٹ ڈاکٹوریٹ اور 16928 مڈل سکول اور دیگر شامل ہیں۔

گورنر سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ نے ٹائیگر فورس کی خدمات لینے سے انکار کیا ہے اس لئے وزیر اعظم نے مجھے ذمہ داری دی ہے کہ میں ٹائیگر فورس کو ساتھ لے کر چلوں،ٹائیگر فورس کے اراکین اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یوٹیلٹی سٹورز پر کوئی چیز مہنگی تو نہیں بیچی جا رہی جبکہ احساس سینٹر پر رقوم کے حصول کے لئے آنے والے افراد کو بھی ٹائیگر فورس مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹائیگر فورس میں وہ لوگ ہیں جن کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں اور یہ صرف اور صرف خدمت کے جذبے کے تحت آگے آئے ہیں، صوبائی حکومت کے انکار کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسے استعمال میں لائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ٹائیگر فورس کو استعمال نہیں کر رہی تو یہ بدقسمتی ہے۔

صوبہ میں گورنر راج کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال کوئی ایسی بات نہیں میں بھی بس ٹی وی میں ہی دیکھتا ہوں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین اختلافات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے صوبے کی بہتری کے لئے وفاق سے مل کر چلنا پڑے گا، کوئی اعتراض ہوتا ہے تو وزیراعلی سے خود بھی بات کر لیتا ہوں، صوبائی حکومت کو بھی اگر کوئی مسئلہ ہے تو اسے وزیراعظم کے علم لانا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شروع سے کہہ رہے تھے کہ ہم مکمل لاک ڈاون نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے کرم سے دوسرے ممالک سے ہم بہتر ہیں، لیکن ہمیں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے، عوام کو چاہئے کہ وہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے اعلان کردہ ایس او پیز پر عمل کریں۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات کی وجہ سے مکمل لاک ڈاون کی طرف نہیں جاسکتے، لاک ڈاؤن کے دوران عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر گورنر سندھ نے کہا کہ ہم نے 1 لاکھ سے زائد لوگوں کو راشن دیا ہے، لیکن یہ سب کافی نہیں ہے، وفاقی و صوبائی حکومتیں، تمام سماجی بھلائی کی تنظیمیں مل کر بھی 100 فی صد افراد تک راشن نہیں پہنچاسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایس او پیز پر عمل نہیں ہوگا تو دوبارہ بھی سب بند ہوسکتا ہے۔

وفاقی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر گورنر سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کے ساتھ گذشتہ روز فیسیلٹیشن ایگریمنٹ پر دستخط ہوگئے ہیں اور عید کے فوراً بعد گرین لائن کے ٹینڈر جاری کردئیے جائیں گے۔ صوبہ میں کتے کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ واقعات تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اس جانب زیادہ توجہ دینا چاہئیے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملہ کو حفاظتی لباس کی عدم فراہمی کے سوال پر گورنر سندھ نے کہا ہے کہ ہمارے ڈاکٹر، پیرا میڈیکل سٹاف اور صفائی کا عملہ اس وقت فرنٹ لائن پر موجود ہیں، میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں ان کو گلوز اور ماسک کی ضروت ہو تو مجھے بتائیں۔ گورنر سندھ نے مزید بتایا کہ انہوں نے ایک کنٹینر حفاظتی سامان لاڑکانہ، شکار پور اور گھوٹکی کے ہسپتالوں کو رکن صوبائی اسمبلی حلیم عادل شیخ کے ہمراہ روانہ کیا ہے۔