Advertisement

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات میں قید پاکستانیوں کو رمضان سے قبل رہا کروا کے پاکستان واپس لانے کا اعلان

Advertisements

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے امید ظاہر کی ہے کہ بیرون ملک جیلوں میں قید سمندر پار پاکستانی رمضان سے پہلے آجائیں گے، اب دنیا پاکستان کے بیانیے کا ادراک کر رہی ہے، پاکستان میں کہیں سے بھی ڈکٹیشن نہیں آرہی ہیں، فیصلےپاکستان میں ہو رہے ہیں. وہ بدھ کو کوہاٹ میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے.انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا گھر ٹھیک کر دیا ہے اب دنیا کو بتا رہے ہیں کہ اپنی سوچ ٹھیک کریں، سیاحت کے لئے دروازے کھول دیئے ہیں، ویزوں کے اجراء میں آسانی کی گئی ہے.

انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کریں، منفی تاثر کا فائدہ دشمن اٹھائیں گے. انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بیرون ملک جیلوں میں قید سمندر پار پاکستانی رمضان سے پہلے آجائیں گے. انہوں نے کہا کہ اب دنیا پاکستان کے بیانیے کو لے رہی ہے، پاکستان میں کہیں سے بھی ڈکٹیشن نہیں آرہی ہیں، پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہورہے ہیں. انہوں نے کہا کہ اب کسی کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے دنیا کو باور کرائیں گے کہ یہاں پاکستان میں امن بحال ہو چکا ہے، پاکستان کی سول اور آرمڈ فورسز کو سلام ہے جن کی قربانیوں کی بدولت ملک میں امن بحال ہوا. انہوں نے کہا کہ وہ قوتیں جو دوسروں کے ایجنڈے کو فالو کر رہی ہیں، ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان اب کسی کے پریشر میں نہیں آئے گا. انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے لیے فاٹا انضمام ہوا ہے، پاکستان کی موجودہ حکومت قبائلی عوام کو گلے لگا رہی ہے

’’ حملہ کر دو ‘‘عمران خان نے یہ حکم کسے دے دیا؟ وزیر اعظم کے کزن حفیظ اللہ خان نے انکشاف کر دیا

تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہاہے کہ عمران خان کا ایک آزمودہ فامولہ ہے کہ جب گھیرا جائے تو حملہ کردو،اس وقت مہنگائی کی وجہ سے جو میڈیا اور عوام نے ان کو گھیرا ہواہے تو عمران خان نے کابینہ کو یہ سارے گر بتائے ہوں گے کہ حملہ کردو، اس لئے تحریک انصاف کی جانب سے دن رات جھوٹ بولا جارہا ہے . تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ جیل میں حنیف عباسی کی نواز شریف کے ساتھ ایک تصویر نظر آگئی تھی جس پر حنیف عباسی کواٹک جیل میں بھیج دیا گیا .

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے حنیف عباسی کے حوالے سے کیابات کی جاتی؟ ساری مسلم لیگ ن پر تو قیامت ڈھا دی گئی تھی ، ایک چیف جسٹس ایک حلقے میں انتخابی مہم پر پہنچ جائیں اور بعد میں کہا جائے کہ میں یہاں انتخابی مہم کیلئے نہیں آیا تھا .انہوں نے کہاکہ عمران خان کا ایک آزمودہ فامولہ ہے کہ جب گھیرا جائے تو حملہ کردو،اس وقت مہنگائی کی وجہ سے جو میڈیا اور عوام نے ان کو گھیرا ہواہے تو عمران خان نے کابینہ کو یہ سارے گر بتائے ہوں گے کہ حملہ کردو، اس لئے تحریک انصاف کی جانب سے دن رات جھوٹ بولا جارہا ہے .پروگرام میں شریک سینئر صحافی ارشاد بھٹی نے کہاکہ حنیف عباسی کے حق میں جو فیصلہ رات کی تاریکی میں آیا تھا ، اس پر تنقید کی تھی اور جوفیصلہ دن کی روشنی میں آیاہے ، اس کی تعریف کی جانی چاہئے .انہوں نے کہا کہ اگر جسٹس قیوم آج ہوتے تو حنیف عباسی کبھی چھوٹ نہ سکتے ، حنیف عباسی ، دانیا ل عزیز، طلال چودھری مسلم لیگ ن میں ہیں لیکن یہ مسلم لیگ ن نہیں ہیں، مسلم لیگ ن ہاﺅس آف شریفس کا نام ہے ، ہاﺅس آف شریفس مشکل میں ہے تو مسلم لیگ ن مشکل میں ہے ، ہاﺅس آف شریفس آسانی میں ہیں تو مسلم لیگ ن آسانی میں ہے .پروگرام میں شریک سلیم صافی نے کہا کہ حنیف عباسی کا کیس باقی سیاسی لیڈر وں کے کیس سے مختلف ہے ، یہ جس دور کا کیس تھا تو اس وقت وہ حکومت میں نہیں تھے ، ان کے ساتھ جو ننگی زیادتی کی گئی ، اس کی عدالتی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ، سالوں سے کیس چل رہا تھا ،اس پر کوئی فیصلہ ہورہا تھا اور نہ سماعت ہورہی تھی لیکن جب الیکشن آگئے تو رات کوفیصلہ سنا دیا گیا ، یہ فیصلہ نا انصافی اور ظلم پر مبنی فیصلہ تھا .ان کا کہنا تھا کہ اب ان کو ریلیف ملاہے ، یہ بھی کافی نہیں ہے ، سو ال یہ ہے کہ ان کے ساتھ جو زیادتی کی گئی ہے ،

اس پرہمارے ہاں کوئی ایسا نظام نہیں ہے کہ جس نے زیادتی کی ہو، اس سے کوئی باز پرس کی جاسکے . انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے اچھے دن آرہے ہیں اور مکافات عمل کے تحت تحریک انصاف والوں کے برے دن آنیوالے ہیں.پروگرام میں شرک آئینی ماہر بابرستار نے کہا کہ ضمانت ہر کسی کاحق ہے ، بیل ہر صورت ملنی چاہئے ، مقدمے کے دوران جیل میں بند رکھنا ، بدقسمتی سے اسی کوسزا سمجھا جاتا ہے ، اس کے علاوہ میڈیا ٹرائل کیا جاتاہے ، ایک شخص کے بار ے میں ایک رائے بنا دی جاتی ہے .انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے ایک حج کیس چلا تھا ، وہ جیل میں بھی رہے لیکن کچھ یھی ثابت نہیں ہوسکا ، اسی طرح حنیف عباسی کے ساتھ بھی ہوا ، ایفی ڈرین کیس میں یہ بات نہیں کہ ان کی جانب سے ایفی ڈرین کسی کوبیچی گئی بلکہ ا س بنیاد پر مقدمہ بنایا گیا تھا کہ ان کو ایفی ڈرین کا کوٹہ ملا تھا .

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings