Advertisement

سب لوگ جنت داخل ہو رہے ہونگے مگرحضرت اویس قرنی ؓ کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیا جائے گا ؟

Advertisements

حضرت اویس قرنی کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیا جائے گا، احادیث کی روشنی میں ایمان افروز واقعہ۔ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کوجنت کے دروازے پر روک لیا جائے گا۔ آپ کا نام اویس ابن عامرہے،کنیت ابو عمرو ہے، یمن کے شہر قرن کے رہنے والے تھے۔ حضور انور کا زمانہ پایا مگر دیدار نہ کرسکے،حضور انور نے آپ کے مدینہ آنے کی بشارت دی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :اس کا قددرمیانہ ،سینہ چوڑا ، رنگ شدید گندمی ، داڑھی سینہ تک پھیلی ہوئی اس کی نگاہیں جھکی جھکی ، اپنے سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر رکھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے، زارو قطار رونے والا ہے ، اس کے پاس دو چادریں ہیں؛ ایک بچھانے کے لئے اور ایک اوڑھنے کے لئے ، دنیا والوں میں گمنام ہے، لیکن آسمانوں میں اس کا خوب چرچاہے ۔ اگر وہ کسی بات پر اللہکی قسم کھالے تو اللہ ضرور اس کی قسم کو پورا کریگا، اس کے سیدھے کندھے کے نیچے سفید نشان ہے۔ کل بروزِ قیامت نیک لوگو ں سے کہا جائے گا : تم لوگ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ لیکن اویس قرنی سے کہا جائے گا کہ تورک جا اور لوگو ں کی سفارش کر ۔

حضرت اویس قرنی کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیا جائے گا، احادیث کی روشنی میں ایمان افروز واقعہ۔ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کوجنت کے دروازے پر روک لیا جائے گا۔ آپ کا نام اویس ابن عامرہے،کنیت ابو عمرو ہے، یمن کے شہر قرن کے رہنے والے تھے۔ حضور انور کا زمانہ پایا مگر دیدار نہ کرسکے،حضور انور نے آپ کے مدینہ آنے کی بشارت دی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :اس کا قددرمیانہ ،سینہ چوڑا ، رنگ شدید گندمی ، داڑھی سینہ تک پھیلی ہوئی اس کی نگاہیں جھکی جھکی ، اپنے سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر رکھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے، زارو قطار رونے والا ہے ، اس کے پاس دو چادریں ہیں؛ ایک بچھانے کے لئے اور ایک اوڑھنے کے لئے ، دنیا والوں میں گمنام ہے، لیکن آسمانوں میں اس کا خوب چرچاہے ۔ اگر وہ کسی بات پر اللہکی قسم کھالے تو اللہ ضرور اس کی قسم کو پورا کریگا، اس کے سیدھے کندھے کے نیچے سفید نشان ہے۔ کل بروزِ قیامت نیک لوگو ں سے کہا جائے گا : تم لوگ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ لیکن اویس قرنی سے کہا جائے گا کہ تورک جا اور لوگو ں کی سفارش کر ۔حضرت اویس قرنی کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیا جائے گا، احادیث کی روشنی میں ایمان افروز واقعہ۔ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کوجنت کے دروازے پر روک لیا جائے گا۔ آپ کا نام اویس ابن عامرہے،کنیت ابو عمرو ہے، یمن کے شہر قرن کے رہنے والے تھے۔ حضور انور کا زمانہ پایا مگر دیدار نہ کرسکے،حضور انور نے آپ کے مدینہ آنے کی بشارت دی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :اس کا قددرمیانہ ،سینہ چوڑا ، رنگ شدید گندمی ، داڑھی سینہ تک پھیلی ہوئی اس کی نگاہیں جھکی جھکی ، اپنے سیدھے ہاتھ کو الٹے ہاتھ پر رکھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے، زارو قطار رونے والا ہے ، اس کے پاس دو چادریں ہیں؛ ایک بچھانے کے لئے اور ایک اوڑھنے کے لئے ، دنیا والوں میں گمنام ہے، لیکن آسمانوں میں اس کا خوب چرچاہے ۔ اگر وہ کسی بات پر اللہکی قسم کھالے تو اللہ ضرور اس کی قسم کو پورا کریگا، اس کے سیدھے کندھے کے نیچے سفید نشان ہے۔ کل بروزِ قیامت نیک لوگو ں سے کہا جائے گا : تم لوگ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ لیکن اویس قرنی سے کہا جائے گا کہ تورک جا اور لوگو ں کی سفارش کر ۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings