Advertisement

زینب کے محلے میں کھڑے ہوکر اقرار الحسن نے کیا دیکھا کہ وہ کانپ اٹھے اور اپنے گھر فون ملا کر بار بار کیا پوچھتے رہے،ہر آنکھ عشق بار

Advertisements

زینب ، طوبیٰ ، مریم ، کتنی بیٹیاں کھیلنے نکلتی ہیں اور سفاکیت و درندگی کا شکار ہو جاتی ہیں۔۔کیوں ؟ کیونکہ وہ کسی بااثر انسان کی بیٹی نہیں تو اس کی کوئی عزت نہیں ؟ ان کی جان بھی کوئی جان ہے ؟ ظالمو ماں کی کوکھ تو ایک ہی ہوتی ہے، بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں ، ایک یہودی کی بیٹی جب نبی کریم (ﷺ) کو پکارتی ہے تو یاایھالمزمل(ﷺ) کی چادر اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔۔معتصم باللہ کو سرحد پار سے ایک بیٹی پکارتی ہے تو وہ بادشاہت اور سب چھوڑ کر بھاگا چلا جاتا ہے۔۔

تم درندو اپنی ہی بیٹیوں کو سفاکیت کی بھینٹ چڑھا رہے ہو۔۔جو ان کے محافظ ہو وہی رہزن بنے ہوئے۔۔لعنت ہے تمہاری مردانگی پر جو بچیوں کو موت کے گھاٹ اتار دے ۔۔تم تو زمانہ جاہلیت کے کفار سے بھی بدتر ہو جو بیٹیوں کو زندہ دفن کرتے تھے کہ وہ تو کافر تھے اسلام نے تمہیں جانور سے انسان بنایا مگر تم لوگوں نے اپنے اندر کا حیوان نہیں مارا۔۔زینب کی ماں سوچتی ہو گی کہ عمرے سے جاؤں گی اپنی بیٹی کے لئے ایک حجاب، ایک کھلونا لے کر جاؤں گی۔۔اس کو گلے سے لگاوں گی۔۔تم کیا جانو اس ماں کے جذبات جو بیٹی سے میلوں دور ہوتی ہے تو کیسے نیندوں میں ہی اپنی بیٹی کو چومتی ہے؟؟۔۔رب کے گھر میں بھی اس کو اولاد کے بغیر وہ قرار نہیں ملتا جس قرار کے لئے وہ آتی ہے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings