Advertisements

”زینب قتل کیس میں گرفتار کیے گئے مشکوک افراد کی مائیں ہمارے پاس آرہی ہیں اور ۔۔۔“

Advertisement

”زینب قتل کیس میں گرفتار کیے گئے مشکوک افراد کی مائیں ہمارے پاس آرہی ہیں اور ۔۔۔“ تفتیش کی آڑ میں پولیس کی جانب سے ملزمان کے ساتھ کیا شرمناک سلوک کیا جا رہا ہے؟ زینب کے والد نے میڈیا پر آ کر ساری کہانی بیان کردی

مقتول زینب کے والد امین انصاری نے مقدمے میں زیر حراست مشکوک افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول زینب کے والد امین انصاری نے کہا کہ زینب قتل کیس میں بے گناہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، زیر حراست لوگوں میں سے اکثر نوعمر ہیں جنہیں راہ چلتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔ امین انصاری نے کہا کہ زیر حراست بچوں کی مائیں ہمارے پاس آرہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ان کے بچوں پر تھانوں میں شدید تشدد کیا جا رہا ہے ، پولیس کی جانب سے بعض لوگوں پر اتنا تشدد کیا گیا ہے کہ ان کو فریکچر ہوگئے ہیں، پولیس نے کسی کے ہاتھ توڑ دیے ہیں تو کسی کی ٹانگیں توڑ دی ہیں۔
زینب کے والد نے کہا کہ پولیس کے رویے کی وجہ سے لوگ اشتعال میں آرہے ہیں اس لیے جن لوگوں کو پکڑا ہے ان کو فی الفور رہا کیا جائے۔

خیال رہے کہ زینب قتل کیس میں پولیس کی جانب سے 60 سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے ہیں اور رپورٹس آنے کے بعد انہیں رہا کیا جائے گا۔

Advertisement