Advertisement

رزق میں کشادگی کی دعا

Advertisements

تنگی رزق سے ہر کوئی عاجز ہوتا ہے .اگر کوئی مسلمان یہ چاہے کہ اسکو کثیر رزق عطا ہوتو اسکو دعائے جبرائیل ؑ پڑھنی چاہئے .یہ دعااللہ کریم نے اپنے محبوب نبیﷺ کو حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے سکھائی تھی اور سب سے پہلے سرکار دوجہاں ﷺ نے اپنی لاڈلی بیٹیحضرت فاطمہؓ کو عطا کی تھی.حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث میں اس دعا کا ذکر موجود ہے.ایک روز آپؓ نے شدید فقر و فاقہ کی وجہ سے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ایک ماہ ہو گیا

گھر میں چولہا جلانے کی نوبت تک نہیں آئی.آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہو تو پانچ بکریاں دے دوں اور چاہو تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی ایک دعا سکھائی ہے بتا دوں. یہ دعا پڑھو

. یَااَوَّلَ الاَوَّلِینَ یَااٰخِرَ الاٰخِرِینَ‘ ذَاالقُوَّةِ المَتِینِ‘ وَ یَارَاحِمَ المَسَاکِینَ‘ وَیَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ

حدیث

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سے صادق المصدوق رسول اللہﷺنے بیان فرمایا : کہ تم میں سے ہر ایک کا مادہ(نطفہ) اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع کیا جاتا ہے پھر چالیس دن تک وہ منجمد خون کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے۔پھر چالیس دن تک وہ گوشت کے ٹکڑے کی صورت میں رہتا ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ کو بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیتا ہے ۔ اس کاعمل ، اس کا رزق ، اس کی مدت زندگی اور یہ کہ بد ہے یا نیک۔ پھر اس نطفہ میں روح ڈالی جاتی ہے ۔ ایک شخص (زندگی بھر نیک ) عمل کرتا رہتا ہے اور جب جنت اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر سامنے آجاتی ہے اور دوزخ والوں کے عمل شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص (زندگی بھر برے) کام کرتا رہتا ہے اور جب دوزخ اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور جنت والوں کے کام شروع کردیتا ہے

حدیث

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ¬ﷺنے ہمیں فرمایا جو کہ صادق و مصدوق ہیں۔تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں مکمل کی جاتی ہے ۔ چالیس روز تک نطفہ رہتا ہے ، پھر اتنے ہی وقت تک منجمد خون کی شکل اختیار کرتا ہے۔پھر اتنے ہی روز تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتاہے کہ اس کا عمل، اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دےاور یہ بھی لکھ دے کہ بدبخت یا نیک بخت ۔ اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے ۔ پھر تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو نیک عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے مگر اس پر تقدیر غالب آجاتا ہے او روہ اہل جہنم کا کام کربیٹھتا ہے ایسے ہی کوئی شخص برے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ۔ پھر تقدیر کا فیصلہ غالب آجاتا ہے تو وہ اہل جنت کے سے کام کرنے لگتا ہے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings