Advertisement

’خان صاحب، میں جب بھی اپنے والدین سے اپنی شادی کی بات کرتا ہوں مجھے بدتمیز کہتے ہیں‘ شادی کے خواہشمند نوجوان کا وزیراعظم کو خط، پاکستانی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے

Advertisements

کہتے ہیں کہ شادی کا لڈو جو کھائے وہ بھی پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے۔ بیچارے شادی شدہ لوگ ہزار واویلا کریں لیکن کنواروں کا شادی کا ارمان کم نہیں کر سکتے۔ اب اس کنوارے ہی کو دیکھ لیں جس کے ماں باپ اس کی شادی نہیں کروا رہے اور اس پر اس نے وزیراعظم عمران خان کو معاملے میں گھسیٹ کر قانون سازی کروانے کی خواہش ہی ظاہر کر دی ہے۔ ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق اس کنوارے کا نام امین ہے اور یہ پشاور کے علاقے بڈھ بیر کا رہنے والا ہے۔

امین نے وزیراعظم عمران خان کے نام خط میں لکھا ہے کہ ”بنام ! جناب عمران خان صاحب! میں 25سال کا لڑکا ہوں، پیسے کماتا ہوں، والدین کو دیتا ہوں۔ جب اپنی شادی کی بات کرتا ہوں تو مجھے بدتمیز او ربداخلاق قرار دیا جاتا ہے کہ شادی کی باتیں خود مت کرو۔ میں بھی انسان ہوں، میرے بھی جذبات ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت 25کے لڑکے کی شادی لازمی قرار دی جائے۔

اور شاید میرا یہ خط کروڑوں نوجوانوں کے دل کی آواز ہو۔“اب امین کا یہ خط کس قدر قابل عمل ہے یہ تو سبھی جانتے ہیں لیکن اس خط نے انٹرنیٹ پر ہنسی کا طوفان ضرور بپا کر رکھا ہے۔ جو بھی اسے پڑھتا ہے، ایک کنوارے کی معصوم خواہش پر ہنسے بغیر نہیں رہ پاتا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings