Advertisement

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات

Advertisements

تمام مکہ صحنِ حرم میں اُمڈ آیا تھا۔ ہجوم میں مکے کے تاجر پیشہ حضرات تھے جن میں سے بیشتر حجرِا سود اور رکن یمانی کے درمیانی علاقے میں تھے اور شاید اس سوچ میں گم تھے کہ جاں بخشی تو ہو گئی مگر یہ واقعہ جو دفعتاً رونما ہوا، اُن کے کاروبار پر کس طرح اثر انداز ہو گا۔ بین الاقوامی شاہراہ پر قائم مکے کا قدیم شہر صدیوں سے ایک اہم تجارتی حیثیت رکھتا تھا۔ کئی ملکوں سے کاروباری رابطے تھے مگر اب مکے کا تجارتی مستقبل کیا ہو گا۔

غریب، مزدور، محنت کش، بے وسیلہ، غلام، بڑی تعداد میں رکن عراقی کے سامنے حطیم کے پاس بیٹھے تھے۔ جو کچھ انہوں نے دیکھا اور سنا تھا، اُنہیں اچھا لگا تھا مگر پھر بھی اُن کی سہمی سہمی، حیرت زدہ آنکھوں سے لگتا تھا کہ کوئی خواب دیکھ رہے ہیں جس کے بارے میں انہیں خوف ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کہیں بکھر نہ جائے۔ کیا واقعی انقلاب کے بعد زندگی کی کوئی سہولت اُنہیں بھی میسر آ سکے گی۔
اُن کے سامنے ذرا فاصلے پر بائیں طرف مقامِ ابراہیم کے گردخانہء کعبہ کے سائے میں کج کلاہانِ قریش بیٹھے تھے۔ کل تک اُن کی ادنیٰ سے ادنیٰ خوشی پر انسانیت کی ہر قدر قربان کی جا سکتی تھی۔ دولت و ثروت، حکومت، اثر و رسوخ، اختیار سب کچھ اُن کی میراث تھا مگر اس تغیر کے بعد جو صورتِ حال اُن کا مقدر بنتی نظر آتی تھی وہ اُن کے لئے پریشان کن تھی۔ وہ بے بس تھے مگر اِس بے بسی کے عالم میں بھی سوچتے تھے کہ اسلامی مساوات کی کڑوی گولی عملاً کس طرح حلق سے نیچے اُترے گی۔

رکنِ عراقی اور مقامِ ابراہیمؑ کے درمیان ان گنت معرکہ آراء، آزمودہ کار صاحبان سیف و کمان تھے جو یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ پشت ہا پشت سے اُن کے عروج کا گہوارہ، اُن کی عظمت و وقار کا ضامن، اُن کی شان و شوکت اور اقتدار کا محور شہرِ مکہ بغیر غارت گری اور خوں ریزی کے دیکھتے ہی دیکھتے ایک دن میں کیسے اُن کے ہاتھ سے نکل گیا۔ ان میں چند شاید یہ بھی سوچتے ہوں گے کہ یہ ایک جزوقتی شکست ہے اور حالات دیر سویر سے پھر اُن کی مرضی کے مطابق ہو جائیں گے۔

اُن کے ساتھ ہی بیٹھے چند صاحبانِ فکر و دانش شاید اس سوچ میں غلطاں تھے کہ نئے حالات میں شہر مکہ کی صدیوں پر انی عظمت برقرار بھی رہ سکے گی یا نہیں۔ تمام قبائل کے بُت آگ کا ایندھن بن گئے یا توڑ دئیے گئے تو اب کون آئے گا مکے میں چڑھاوے چڑھانے، منتیں ماننے۔ اُن کے معبود ہی نہ رہے تو تمام رحمتیں اور برکتیں جو اہلِ عرب کے ذہنوں میں مکے سے منسوب تھیں رفتہ رفتہ خیال و خواب ہو جائیں گی۔ پھر کیارہ جائے گا مکہ کسی کی نظر میں۔ ایسے بھی تھے جن کا ایمان تھا کہ مکے کی حرمت پر حملہ ہوا ہے اور اب قہر نازل ہو کر رہے گا، ویسا ہی جیسا اصحاب فیل پر ہوا تھا۔ کچھ لوگ یقیناًیہ بھی سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ اتنے بڑے جید خدا جن کی طاقت، اختیار اور قدرت پر اُن کی ساری کائنات کا دارومدار تھا آن کی آن میں یوں فنا کر دئیے گئے اور کوئی قیامت برپا نہیں ہوئی۔ غرض ذہنوں میں طرح طرح کی سوچیں تھیں مگر نظریں سب کی بابِ ملتزم کی طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تھیں جنہیں اُن میں سے اکثر جانتے تھے اور کئی بے نصیب جانتے ہوئے بھی نہیں جانتے تھے۔ وہ اُن کے رُوئے مبارک کے ہر تاثر سے، اُن کی ہر جنبشِ ابرو، ہر حرکت لب میں اپنے ان گنت سوالوں کا جواب تلاش کر رہے تھے۔

کئی نوجوان تھے جو اس سارے منظر کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ ساری زندگی اس شہر کے عروج کی، توقیر کی، تقدیس کی داستانیں سنتے رہے تھے، اُس کا فتح ہو کر کسی اور کے قبضے میں چلے جانا اُن کی فہم سے باہر تھا۔ وہ اس واقعے کے محرکات سے تو کچھ حد تک آشنا تھے مگر اس انقلاب کی تاریخ، تہذیبی اور سماجی اہمیت کا اُنہیں کوئی اندازہ نہیں تھا اور نہ وہ یہ سمجھ پا رہے تھے کہ یہ بدلا ہوا ماحول اُن کی آئندہ زندگی پر کیا اثرات مرتب کرے گا۔ یہ بے فکرے، بڑوں سے ہٹ کر، چاہِ زمزم کے نزدیک اپنا الگ پراجمائے بیٹھے تھے۔ میں نے سنا، ان میں ایک عتاب نامی نوجوان کو میری اذان اچھی نہیں لگی۔ اُس نے پاس بیٹھے اپنے ایک مشرک ساتھی سے کہا، ’’شکر ہے آج میرا باپ زندہ نہیں ہے ورنہ وہ برداشت نہ کر سکتا کہ کعبے کی چھت پر ایک حمارِ سیاہ یوں رینکے۔‘‘
اسی ٹولے سے میری اذان کے دوران میں کسی نے ازراہِ تمسخر میری اذان کی نقل اُتارنے کی کوشش کی۔ نہایت دھیمی آواز میں، جسے چند لوگوں نے سنا، اور بات آئی گئی ہو گئی۔ چند ثانیوں بعد اُسی ٹولے سے کسی اور نے میری اذان کی نقل کی۔ اسے بھی زیادہ لوگوں نے نہیں سنا اور جنہوں نے سنا بھی وہ ماحول کی سنجیدگی کی وجہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ چند لمحے گزرے کہ اسی جماعت کے کسی اور لا اُبالی نوجوان نے یہی صورت دہرائی مگر تینوں آوازیں اتنی مدھم تھیں کہ اُنہیں صرف قریب کے لوگوں نے سنا اور جب ان پر کہیں سے کوئی ردعمل نہیں ہوا تو ہر ایک نے یہ سمجھ کر سکھ کا سانس لیا کہ دانستہ شرارت کا یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا اور اب کسی باز پرس کی نوبت نہیں آئے گی۔ مگر ہوا یہ کہ اذان ختم ہوتے ہی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ وہ جس نے سب سے پہلے بلال کی اذان کی نقل کی تھی، سامنے آئے۔

حاضرین میں کھلبلی مچ گئی۔ ہر شخص پریشان کہ اب کیا ہو گا۔ اتنے میں ایک پندرہ سولہ سالہ نوجوان چاہ زمزم کی سمت سے ملتزم کی طرف، راستہ بناتا ہوا، آتا دکھائی دیا۔ پاس آیا تو عمرؓ نے بڑھ کر اُس کا ہاتھ تھام لیا اور اُسے لوگوں کی صفوں سے باہر نکال کر، بابِ ملتزم کے پاس، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لے آئے۔ بہت سوں کو اُس کی نوعمری پر ترس آیا۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم زیر لب مسکراتے ہوئے اُس نوجوان کی طرف بڑھے اور اسے انتہائی شفقت سے کہا ’’ بلال کی اذان کی نقل دوبارہ سناؤ‘‘۔ نوجوان کچھ دیر نظریں جھکائے کھڑا رہا۔ پھر اُس نے حاضرین کی سمت دیکھا اور خالقِ کائنات کی تکبیر اور رسالت کی شہادت کے کلمات اپنی بھرپور آواز میں ادا کئے اور اس خوش الحانی اور اعتماد کے ساتھ کہ تمام حاضرین دم بخود رہ گئے۔ اکثر کے منہ سے بے ساختہ سبحان اللہ اور جزاک اللہ کے الفاظ نکلے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعریف کی اور اُسے درہموں کی ایک تھیلی انعام میں دی۔ اُس کے سر، پیشانی اور سینے پر دست مبارک پھیرا۔ نوجوان کا شرحِ صدر ہوا، تو، بقول اُس کے، اُسے ایسا لگا جیسے کسی نے منوں بوجھ اُس کے سر سے اُتار پھینکا ہے۔ اُس نے بآواز بلند سب کے سامنے کلمہء شہادت پڑھا اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے دعا دی اور اُس سولہ سالہ نوجوان کو تاحیات بیت عتیق کا مؤذن مقرر فرما دیا۔ ہم اس نوجوان کو ابو محذورہ جمحی کے نام سے جانتے ہیں۔(جاری ہے )

Advertisement

Source Dailypakistan.com.pk
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings