Advertisement

جو کہا وہ کر دکھایا، حکومت نے وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ درجے کا تعلیمی ادارہ بنانے کا اعلان کر دیا

Advertisements

وفاقی حکومت نے وزیراعظم ہاؤس کو اعلیٰ درجے کا تعلیمی ادارہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کو پوسٹ گریجویٹ طلبا کے لیے ایک اعلیٰ درجے کا تعلیمی ادارہ بنائے جائے گا۔

وزیراعظم ہاؤس ایک ہزار 96 کینال پر محیط ہے جس پر سالانہ 47 کروڑ روپے خرچ آتا ہے ،اسی لیے اس کو اعلیٰ درجے کا تعلیمی ادارہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کو تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے وزیراعظم ہاؤس کے پیچھے موجود اراضی پر تعمیرات ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر طارق اور ڈاکٹر عطا ءالرحمان مل کر اس کا پلان تجویز دیں گے۔

جس کےبعد وزیراعظم ہاؤس کو ایک اعلیٰ پائے کا تعلیمی ادارہ یا یونیورسٹی بنایا جائے گا۔ اور یہ ادارہ تعلیمی لحاظ سے منفرد ہو گا۔ شفقت محمود نے کہا کہ اس سلسلے میں گورنر ہاؤس مری پر بھی غور کیا گیا، گورنر ہاؤس مری پر حال ہی میں پنجاب حکومت نے 60 کروڑ روپیہ لگایا ۔ پنجاب ہاؤس مری 30 کینال پر محیط ہے،اس میں چالیس کمرے موجود ہیں جس پر سالانہ ڈھائی کروڑ روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اسے ایک سیاحتی ریزورٹ (ٹورسٹ کمپلیکس) بنایا جائے گا۔ اس ضمن میں پنجاب حکومت تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی جس کے بعد اسے سیاحتی ریزورٹ بنانے کے لیے کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پنڈی میں ایک پنجاب ہاؤس اور اس سے ملحقہ گورنرز انیکسی ہے، یہ راولپنڈی کی مرکزی جگہ پر موجود ہے۔ پنجاب ہاؤس کا کُل رقبہ 50 کینال جبکہ اس کے ساتھ موجود گورنرز انیکسی کا کُل رقبہ 20 کینال ہے ، یعنی یہ عمارت 70 کینال پر محیط ہے جو ریسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور ان کی تزئین و آرائش پر سالانہ 4
کروڑ روپے کا خرچ آتا ہے۔
اس کو بھی اعلیٰ تعلیمی ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت فیصلہ کرے گی کہ یا تو یہ عمارت انفارمینش ٹیکنالوجی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ہو گا، یا راولپنڈی کے نیشنل کالج آف آرٹس کو یہاں شفٹ کر دیا جائے ، اس سے متعلق ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گورنر ہاؤس لاہور 700 کینال پر مشتمل ہے ، یہاں اسٹاف کوارٹرز، مرکزی گھر ، طلبا اور طالبات کے لیے الگ الگ اسکول اور انسٹی ٹیوٹ ہے۔

یہاں سے اسکول اور انسٹی ٹیوٹ کو الگ کر کے باقی رقبے پر ایک میوزیم بنایا جائے گا۔ اور ایک آرٹ گیلری بھی بنائی جائے گی جو عوام کے لیے کھُلی ہو گی۔ یہاں ایک پارک بھی موجود ہے جسے عوامی پارک کا درجہ دے دیا جائے گا۔ گورنر ہاؤس پنجاب کی مال روڈ والی دیوار کو گرا پر وہاں جنگلا لگایا جائے گا جس کے بعد گورنر ہاؤس اور اس کا پارک بھی عوام کی دسترس میں آجائیں گے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے شاہراہ قائد اعظم پر بھی اپنا ایک دفتر بنا رکھا تھا جس پر سالانہ خرچ 8 کروڑ روپے آ رہا تھا، اس سے متعلق فیصلہ کیاگیا تھا کہ یہ پہلے بھی کرافٹ میوزیم ہوتا تھا اسے کرافٹ میوزیم میں ہی دوبارہ ڈھالا جائے گا اور اس کے نیچے ایک ہال ہے جسے کنونشن سینٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت اس کو میوزیم میں تبدیل کر کے نیچے موجود ہال کو کانفرنس سینٹر میں تبدیل کرے گی جس سے یہ مربوط شکل میں آ جائے گا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings