Advertisements

”جب میں چوتھی کلاس میں پڑھتی تھی تو میری خاتون ٹیچر مجھے ایک کمرے میں لے گئی اور میری قمیض اٹھا کر۔۔۔“

Advertisement

تحریک انصاف کی مرکزی رہنما شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب حاضر مزاری نے بتایا ہے کہ جب وہ چوتھی کلاس میں پڑھتی تھیں تو انہیں ایک خاتون ٹیچر کی جانب سے ہراساں کیا گیا۔
ٹوئٹر پر ایمان مزاری نے بتایا کہ ان کے والدین نے گھر میں کبھی بھی کسی مرد کو ملازم نہیں رکھا یہاں تک کہ انہیں قرآن پاک سیکھنے کیلئے بھی ایک خاتون معلمہ کے پاس بھیجا گیا، جب بھی کسی قسم کی ہوم ٹیوشن ہوتی تو ان کے والد اس وقت تک کمرے میں بیٹھے رہتے جب تک پڑھائی ختم نہ ہوجاتی ، ’میں اور میرا بھائی جب بھی گھر سے باہر جاتے تھے تو والدین ہمیشہ ہمارے ساتھ جاتے تھے لیکن اس کے باوجود جب میں چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی تو میرے پرائیویٹ سکول میں انگریزی کے مضمون کی خاتون استاد مجھے ایک خالی کلاس روم میں لے گئیں اور کہا کہ اپنی شرٹ اٹھاﺅ تاکہ چکن پاکس دیکھے جا سکیں‘۔

’ٹیچر نے کہا کہ جب کلاس میں واپس جاﺅ تو کوئی پوچھے تو بتانا کہ ہوم ورک نہ کرنے پر سزا ملی تھی۔‘

ایمان مزاری نے کہا کہ ٹیچر کے رویے کی وجہ سے انہیں اس دن بہت ہی عجیب محسوس ہوا، جب وہ گھر واپس گئیں تو انہوں نے والدین کے ساتھ ناراض رویہ اپنایا جس پر انہوں نے بار بار برے رویے کی وجہ پوچھی لیکن میں نے وہ واقعہ انہیں کبھی بھی نہیں بتایا بلکہ آج سے 2 سال پہلے انہیں بتایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ کے بعد وہ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ اس ملک میں بچوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، کیونکہ کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے،جو کچھ زینب کے ساتھ ہوا ہے اس کو ہمیشہ ہمارے اجتماعی شعور میں محفوظ رہنا چاہیے۔ یہ سب کب تک یونہی چلتا رہے گا؟ آخر تبدیلی کب آئے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا صرف ہم ہی جواب دے سکتے ہیں، ان سوالوں کے جواب یہ ثابت کریں گے کہ ہمارے اندر انسانیت موجود بھی ہے یا نہیں۔

Advertisement