Advertisement

بھارت کی متنازعہ اداکارہ صوفیہ حیات نے سلمان خان کو سزا ملنے پر خوشی کا اظہار کر دیا، بھارت بھر میں ہنگامہ برپا ہو گیا

Advertisements

بالی ووڈ سٹار سلمان خان کو 5 سال قید کی سزا ہونے پر پورا بھارت ہی غم میں ڈوب گیا۔ 1998ءمیں کالے ہرن کا شکار کرنے پر ان پر مقدمہ درج ہوا تھا جو 19 سال چلتا رہا اور بالآخر اس کا فیصلہ سناتے ہوئے سلمان خان کو 5 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

عدالتی فیصلے کے بعد سلمان خان کو جودھ پور سینٹرل جیل میں منتقل کیا جا چکا ہے اور ان کے مداح غم سے نڈھال ہیں لیکن بھارت کی متنازعہ اداکارہ صوفیہ حیات نے سلمان خان کو سزا ملنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ صوفیہ حیات نے انسٹاگرام پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے لکھا ”آخر مکافات عمل آپ کو پکڑ ہی لیتا ہے۔۔۔ بہت سے لوگ سلمان خان کیخلاف بات کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بالی ووڈ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ خیر!!! میں اب اپنے نفس کی غلام نہیں ہوں اور اس لئے میں بولنے سے نہیں ڈرتی۔جانور اس سیارے کا اہم حصہ ہیں، جو سلمان خان نے کیا، ویسا کرنا اور پھر اس کا مذاق اڑانا خود پسندی کی بہترین مثال ہے۔ بہت سے بچے اس کی جانب دیکھتے ہیں اور نوجوان کی اس پر ذمہ داری ہے۔ جب وہ ایسے کام کرتا ہے تو دنیا کو کیا دکھاتا ہے؟ وہ انہیں کیا سبق دے رہا ہے؟ یہی کہ قانون توڑنا، جانوروں کو مارنا اور پھر ان کا مذاق اڑانا ٹھیک ہے کیونکہ وہ ایک سلیبریٹی ہے! کسی بھی یورپی ملک میں ایسا کرنے اور شراب پی کر گاڑی تلے لوگوں کو روندنے پر یہ بدنام ہو جاتا۔

اس کے بعد اس نے خود کو بدلا اور خود کو فلاحی کام کرنے والا شخص بنایا تاکہ مکافات عمل سے بچ سکے۔ آج بھارت نے یہ دکھا دیا کہ جو کوئی بھی ہو، اگر وہ قانون توڑے گا، تو وہ قانون سے بڑا نہیں ہے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ دوسروں کے جرم کی شکایت کرنے کیلئے پولیس سٹیشن جانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ فلموں میں یہ ہی دکھایا جاتا ہے کہ شہرت یافتہ اور امیر لوگ بچ جاتے ہیں کیونکہ وہ پولیس، جج یا پھر وکیل کو پیسہ دیدیتے ہیں۔

Karma gets you in the end…Many people are afraid to talk against Salman because they think he controls Bollywood. Well, I no longer serve my ego and therefore am not afraid to speak up. I am so happy that Salman has gone to jail for what he has done. Animals are so important to this planet and doing what he did and then mocking it was a huge act of his own self importance. Lots of children look up to him, and he has a responsibility to the young people.What is he showing the world when he does things like this? What lessons is he giving them? That it is ok to break the law, to kill animals and then mock it because he is a celebrity? In any western country he would have been vilified for this and the drink driving deaths that he caused. He has then reinvented himself as a charitable man to try and compensate his karma. Today, India has shown that no matter who you are, if you break the law, you are no bigger than the law. I have heard so many young people in India speak about how they are afraid to go to the police about crimes committed by others because they watch the tv and see how people with money and status get away with it because they have paid off the police or the judge or the lawyers. This happened to me when Armaan Kohli paid off 2 of my lawyers so that I could not continue with the case, Dolly Bindra also told me that Armaans family are powerful enough to put drugs in my bag at the airport and I would be in Jail. I had to then drop the case as all the lawyers I hired were paid off. Today, Hindustan can stand strong and hold its head up high to the world and show them that justice is held up in India, and today, all the poor people have been shown a glimmer of hope in their own fight for justice against those who have manipulated the law. Today I can say Hindustaan Zindabaad!

A post shared by Sofia Hayat (@sofiahayat) on

ایسا میرے ساتھ بھی ہوا جب ارمان کوہلی نے میرے دو وکلاءکو پیسے دئیے تاکہ میرا کیس جاری نہ رکھیں۔ ڈولی بندرا نے بھی مجھے بتایا کہ ارمان کا خاندان اتنا طاقتور ہے کہ وہ ائیرپورٹ پر میرے بیگ میں منشیات رکھوا دیں گے اور میں جیل میں سڑتی رہوں گی۔ مجھے پھر مقدمہ ختم کرنا پڑا اور جتنے بھی وکلاءکی خدمات حاصل کیں، انہیں پیسے ادا کئے۔
آج ہندوستان پوری طاقت کیساتھ کھڑا ہو کر اپنا سر اونچا کر سکتا ہے کیونکہ اس نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ بھارت میں انصاف ہوا ہے۔ اور آج تمام غریب لوگوں کو قانون جیب میں رکھنے والے افراد کیخلاف لڑی جانے والی اپنی اپنی لڑائی میں امید کی کرن نظر آئی ہے۔ آج میں کہہ سکتی ہوں کہ ’ہندوستان زندہ باد‘۔“

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings