Advertisement

بنی اسرائیل اللہ پاک کی سب سے پسندیدہ قوم تھی مگر وہ کون سا واقعہ تھا جس پہ ان پر اللہ کا قہر نازل ہو ا؟ وہ بات جو تمام مسلمانوں کو ضرور معلوم

Advertisements

بنی اسرائیل کا ایک شخص بے اولاد مگر بہت مالدار تھا۔ اس کا ایک پھتیجا اس کا وارث تھا۔ اس نے اسے قتل کر دیا اور اس کی لاش کو رات کے وقت اپنے ہی ایک آدمی کے دروازے پر پھینک دیا، پھر دعوٰی کر دیا کہ اس نے اسے قتل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ ذبح شدہ گائے کے گوشت کا ٹکڑا مارنے سے مردہ لاش جی اٹھتی اور اور بول کر قاتل کا پتہ بتا دیتی۔ گائے پرستی اور گائے بیل سے محبت اور اسے دیوتا سمجھنے کا عقیدہ ابھی تک ان میں موجود تھا۔ اس لیے گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کے مترادف تھا۔ جب موسی علیہ السلام نے ان تک اللہ کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے یوں کہ ہم سے دل لگی کرتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تو تمہیں اللہ کا حکم بتا رہا ہوں، دل لگی نہیں کر رہا۔ اگر بنی اسرائیل ایک فرمانبردار قوم ہوتے تو کوئی سی گائے بھی ذبح کر دیتے تو حکم کی تعمیل ہو جاتی۔ بنی اسرائیل کے لوگ اس پر کہنے لگے کہ اچھا ہمیں اپنے پروردگار سے پوچھ کر بتاؤ وہ گائے کیسی ہونی چاہیے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا۔ وہ گائے جوان ہونی چاہیے، بوڑھی یا کم عمر نہ ہو۔ پھر دوسری مرتبہ یہ سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر ہمیں بتاؤ کہ اس کا رنگ کیسا ہونا چاہیے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ وہ گہرے زرد رنگ کی ہونی چاہیے، جو دیکھنے والے کے دل کو خوش کر دے۔

اب بھی حکم بجا لانے پر طبیعت آمادہ نہ ہوئی تو تیسری مرتبہ یہ سوال کر دیا کہ ایسی صفات کی گائیں تو ہمارے ہاں بہت سی ہیں ہمیں پوچھ کر بتایا جائے کہ اس کی مزید صفات کیا ہوں؟ تاکہ ہمیں کسی متعین گائے کا علم ہو جائے جس کی قربانی اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا کہ وہ گائے ایسی ہونی چاہیے جس سے ابھی تک کھیتی باڑی کا کام لینا شروع ہی نہ کیا گیا ہو یعنی نہ وہ ہل کے آگے جوتی گئی ہو اور نہ کنویں کے آگے۔ تندرست ہو اور صحیح و سالم ہو۔ یہ نہ ہو کہ کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے کام نہ لیا جا رہا ہو اور اس میں کوئی داغ بھی نہ ہو۔ آخر کار انہیں اپنی مطلوبہ گائے ایک شخص کے پاس مل گئی لیکن اس نے کہا کہ وہ اس گائے کے بدلے میں اس کی کھال بھر سونا لے گا اس کے علاوہ گائے ہر گز نہیں دے گا۔ تو انھوں نے اتنا سونا دے کر گائے کو خرید لیا اسے ذبح کیا اور اسے مقتول کے جسم کے ساتھ لگایا تو اٹھ کھڑا ہوا۔ پھر انھوں نے پوچھا تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ تو اس نے اپنے بھتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے۔ اور یہ کہ کر وہ پھر مر گیا۔ اس طرح قاتل کو اس کے مال میں سے کچھ بھی نہ دیا گیا اور بعد میں بھی ہمیشہ یہی اصول رہا کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں ہو سکتا۔

Advertisement

Source dailyausaf.com
x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings