Advertisement

بریکنگ نیوز! آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کیلئے ہنگامی اقدام

Advertisements

آسیہ بی بی کیس کے بعد ججز کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کی سکرونٹی کا عمل شروع کر دیا گیا۔چھان بین کا عمل مکمل ہونے پر اہلکاروں کے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے گی اور مشکوک نظر آنے والے اہلکاروں کی ڈیوٹیاں تبدیل کر دی جائیں گیتفصیلات کے مطابق 31اکتوبر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے آسیہ بی بی کیس فیصلہ سنایا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان بھی بنچ کا حصہ تھے۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ بی بی کو الزامات سے بری کیا اور رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔جس کے بعد ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے مظاہرے شروع کئیے گئے۔تاہم 3 روز بعد حکومت اور مظاہرین میں معاہدہ طے پا گیا۔

اس مظاہرے کے دوران جہاں نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچا وہیں دھرنے کی قیادت نے پاکستان کی اعلیٰ شخصیات کے خلاف فتاویٰ جاری کیے،جس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ آسیہ بی بی کو رہا کرنے والے ججز کو فوری طور پر قتل کر دیا جائے اور اگر کسی کو ان تک رسائی حاصل نہیں ہے تو ان ججز کی سیکیورٹی پر مامور افراد ہی ا نکو قتل کردیں۔

اس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ معزز جج صاحبان کو انکی سیکیورٹی کی جانب سے خطرہ ہو سکتا ہے ،جس کے بعد ان اور دیگر ججز کی سیکیورٹی پر مامورپولیس اہلکاروں کی سکرونٹی کا عمل شرو ع کرنے کا فیصلہ کیا۔ سپریم کورٹ میں 239 سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں، چیف جسٹس اور دیگر ججز کے ساتھ ڈیوٹی دینے والے سیکورٹی اہلکاروں کی اسکروٹنی مکمل ہوگئی ہے۔

اس کے بعد سپریم کورٹ میں تعینات تمام اہلکاروں کی اسکروٹنی آئند ہ ہفتے مکمل کرلی جائے گی۔اہلکاروں سے تحریری سوالنامہ اور انٹرویو بھی لیا جارہا ہے۔ پولیس اہلکاروں سے دینی رجحانات اور اہلخانہ سے متعلق سوالات بھی پوچھے گئے ہیں۔ سوالنامہ میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی اور اہلکاروں کے مسلک کے بارے میں بھی پوچھا گیا ہے۔ ڈی آئی جی وقار چوہان کی سربراہی میں 6 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں اے آئی جی اسپیشل برانچ، ایس ایس پی سیکورٹی، ایس پی سپریم کورٹ اور 2 ماہر نفسیات شامل ہیں۔ اسکروٹنی مکمل ہونے پر اہلکاروں کے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے گی اور مشکوک نظر آنے والے اہلکاروں کی ڈیوٹیاں تبدیل کر دی جائیں گی۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings