Advertisement

بحریہ ٹاؤن میں 510 کنال سرکاری زمین پر قبضے کا معاملہ!! عدالتی فیصلے نے ملک ریاض کو بھی ہلا کر رکھ دیا

Advertisements

سیشن کورٹ میں بحریہ ٹاؤن 510 کنال 6 مرلہ سرکاری زمین پر قبضے سے متعلق کیس کا فیصلہ آ گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سیشن کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی اراضی پر آپریشن روکنے کی درخواست خارج کر دی۔جس کے بعد سی ڈی اے کو بحریہ ٹاؤن کی 510 کنال 6 مرلہ سرکاری زمین چھڑانے کی اجازت مل گئی ہے۔بحریہ ٹاؤن نے موضع کُری کی 510 کنال 6 مرلہ سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا تھا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔خیال رہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے حکم امتناعی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ماتحت عدلیہ کو معاملہ 15روز میں نمٹانے کا حکم جاری کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی تھی۔عدالت عالیہ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی۔اس موقع پر سی ڈی اے کی جانب سے وکیل کاشف ملک عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ رہائشی سکیم بحریہ انکلیو میں سی ڈی اے کی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے، سی ڈی اے کی کارروائی سے قبل ہی بحریہ ٹاؤن نے سول عدالت سے حکم امتناعی حاصل کیا،حکم امتناعی کو خارج کیا جائے یا اس پر فیصلہ کیا جائے ۔

فاضل جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایڈیشنل سیشن جج کو ہدایت کی کہ پندرہ روز کے اندر معاملے کو نمٹائیں۔ عدالت نے درخواست کو نمٹادی۔جس کے بعد آج اس کیس کا فیصلہ آیا ہے اور سیشن کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی اراضی پر آپریشن روکنے کی درخواست خارج کر دی۔جس کے بعد سی ڈی اے کو بحریہ ٹاؤن کی 510 کنال 6 مرلہ سرکاری زمین چھڑانے کی اجازت مل گئی ہے۔واضح رہے بحریہ ٹاؤن نے موضع کُری کی 510 کنال 6 مرلہ سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا تھا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings