Advertisement

بجلی کی لوڈشیڈنگ کم کرنے کیلئے عمران خان کا بیک اپ پلان تیار رمضان المبارک میں کتنے گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہوگی؟

Advertisements

میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے بیک اپ پلان کے حوالے سے سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ اس مرتبہ لوڈشیڈنگ کم از کم ہونی چاہئیے. وزیر اعظم کی ہدایت کی روشنی میں تیار کیے گئے منصوبے کے تحت دو تھرمل پاور جینکو تھری اور جینکو ون کو بیک اپ میں رکھا گیا . یہاں سے بجلی کی پیدوار شارٹ فال کو دیکھتے ہوئے شروع کی جائے گی . جینکو تھری سے 356 میگاواٹ بجلی اور جینکو ون سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی .

تربیلا اور منگلا میں بھی پانی کی سطح پہلے سے بہتر ہو رہی ہے اور ایک اندازہ کے مطابق رمضان تک پانی کی سطح مزید بہتر ہو نے پر 4 سے 6 ہزار میگاواٹ تکبجلی کی پیداوار یہاں سے کی جا سکے گی. جبکہ بڑے شہروں میں زیادہ سے زیادہ 4 اور چھوٹے شہروں میں 6 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوگی. ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں یہ پہلا ایسا کام ہے جس کو وقت سے پہلے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے ، اپریل کی غیر متوقع بارشیں اور موسم کی بہتری بھی لوڈ شیڈنگ کی کمی میں اہم کردار ادا کر یں گی .واضح رہے کے موجودہ حکومت کے دور میں پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام پریشانی میں مبتلا ہو گئی تھی اور اس سلسلے میں عوام نے مہنگائی بم گرانے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا تاہم اب رمضان المبارک میں کم سے کم لوڈ شیڈنگ کی خبر نے عوام میں تھوڑا حوصلہ پیدا کیا جا رہا ہے اور اُمید کی جا رہی ہے کہ رمضان المبارک میں بجلی کی کم از کم لوڈ شیڈنگ کی جائے گی تاکہ عوام کو مشکل پیش نہ آئے

بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے. ایک ہی روز میں بلوچستان میں دوسرا دھماکہ ہوا ہے. میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان کے شہر چمن کی مشہور مال روڈ پر دھماکہ ہوا ہے. دھماکہ موٹر سائیکل پر نصب ریموت کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا. دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص کے جاں بحق ہونے اور 4 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں. بتایا جا رہا ہے کہ دھماکہ اس وقت کیا گیا جب علاقے سے سیکورٹی فورسز کا قافلہ گزر رہا تھا. دھماکے کے ذریعے سیکورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی. تاہم سیکورٹی فورسز کے کسی اہلکار کے نشانہ بننے یا نہ بننے کے حوالے سے تاحال معلومات موصول نہیں ہوئیں. سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں. زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے. واضح رہے کہ اس سے قبل جمعہ کی صبح کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دھماکہ ہوا تھا. کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں 16 افراد شہید ہوئے.

Advertisement

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings