Advertisement

بار بار پیسے نہ مانگیں کام کا بتائیں، جانتے ہیں وزیر اعظم نے کس اعلیٰ ترین عہدیدار کو کھری کھری سنا دیں

Advertisements

وزیراعظم عمران خان کراچی میں حکومتی عہدیداروں کی بریفنگ سے مطمئن نہ ہو سکے۔وزیر اعظم عمران خان نے ایم ڈی واٹر بورڈ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ بار بار پیسے نہ مانگیں ،کام کا بتائیں۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز کراچی میں میں موجود تھے۔وزیر اعظم عمران خان کا بطور وزیر اعظم کراچی کا یہ پہلا دورہ تھا۔اس موقع پر جہاں وزیر اعظم نے مزار قائد پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کی۔

اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے اعلیٰ عہدیداروں سے بریفنگ بھی لی تاہم وزیراعظم عمران خان کراچی میں حکومتی عہدیداروں کی بریفنگ سے مطمئن نہ ہو سکے۔اس موقع پر کراچی کے پانی کے مسئلے پر وزیر اعظم عمران خان نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے بھی ملاقات کی۔یم ڈی واٹر بورڈ بار بار فنڈز کی کمی کا رونا روتے رہے جس پر وزیراعظم نے کہاکہ آپ بار بار پیسہ نہ مانگیں بلکہ کام کے بارے میں پیشرفت بتائیں لگتا ہے ساری پیشرفت کاغذوں پر ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گرین لائن منصوبے کا کیا ہوا۔ وزیراعظم صوبائی حکومت سے غیر مطمئن دکھائی دئیے تاہم منصوبے کے نگراں صالح فاروقی وزیراعظم کو سب اچھا کی رپورٹ دینے میں کامیاب ہو گئے۔انہوں نے وزیراعظم کو کہاکہ گرین لائن منصوبہ مکمل ہو گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گرین لائن منصوبے پر 35 فیصد بھی کام مکمل نہیں ہوا، گرومندر سے کے پی ٹی گیٹ تک منصوبے کا وجود ہی نہیں اور اس سلسلے میں ایک بھی اینٹ نہیں رکھی گئی‘ جس رفتار سے کام ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ منصوبہ آئندہ 10 برس میں بھی مکمل نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم عمران خان کراچی میں حکومتی عہدیداروں کی بریفنگ سے مطمئن نہ ہو سکے۔وزیر اعظم عمران خان نے ایم ڈی واٹر بورڈ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ بار بار پیسے نہ مانگیں ،کام کا بتائیں۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز کراچی میں میں موجود تھے۔وزیر اعظم عمران خان کا بطور وزیر اعظم کراچی کا یہ پہلا دورہ تھا۔اس موقع پر جہاں وزیر اعظم نے مزار قائد پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کی۔

وزیراعظم عمران خان کراچی میں حکومتی عہدیداروں کی بریفنگ سے مطمئن نہ ہو سکے۔وزیر اعظم عمران خان نے ایم ڈی واٹر بورڈ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ بار بار پیسے نہ مانگیں ،کام کا بتائیں۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز کراچی میں میں موجود تھے۔وزیر اعظم عمران خان کا بطور وزیر اعظم کراچی کا یہ پہلا دورہ تھا۔اس موقع پر جہاں وزیر اعظم نے مزار قائد پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کی۔اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے اعلیٰ عہدیداروں سے بریفنگ بھی لی تاہم وزیراعظم عمران خان کراچی میں حکومتی عہدیداروں کی بریفنگ سے مطمئن نہ ہو سکے۔اس موقع پر کراچی کے پانی کے مسئلے پر وزیر اعظم عمران خان نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے بھی ملاقات کی۔یم ڈی واٹر بورڈ بار بار فنڈز کی کمی کا رونا روتے رہے جس پر وزیراعظم نے کہاکہ آپ بار بار پیسہ نہ مانگیں بلکہ کام کے بارے میں پیشرفت بتائیں لگتا ہے ساری پیشرفت کاغذوں پر ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گرین لائن منصوبے کا کیا ہوا۔ وزیراعظم صوبائی حکومت سے غیر مطمئن دکھائی دئیے تاہم منصوبے کے نگراں صالح فاروقی وزیراعظم کو سب اچھا کی رپورٹ دینے میں کامیاب ہو گئے۔انہوں نے وزیراعظم کو کہاکہ گرین لائن منصوبہ مکمل ہو گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گرین لائن منصوبے پر 35 فیصد بھی کام مکمل نہیں ہوا، گرومندر سے کے پی ٹی گیٹ تک منصوبے کا وجود ہی نہیں اور اس سلسلے میں ایک بھی اینٹ نہیں رکھی گئی‘ جس رفتار سے کام ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ منصوبہ آئندہ 10 برس میں بھی مکمل نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم عمران خان کراچی میں حکومتی عہدیداروں کی بریفنگ سے مطمئن نہ ہو سکے۔وزیر اعظم عمران خان نے ایم ڈی واٹر بورڈ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ بار بار پیسے نہ مانگیں ،کام کا بتائیں۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان گزشتہ روز کراچی میں میں موجود تھے۔وزیر اعظم عمران خان کا بطور وزیر اعظم کراچی کا یہ پہلا دورہ تھا۔اس موقع پر جہاں وزیر اعظم نے مزار قائد پر حاضری دینے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کی۔اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے اعلیٰ عہدیداروں سے بریفنگ بھی لی تاہم وزیراعظم عمران خان کراچی میں حکومتی عہدیداروں کی بریفنگ سے مطمئن نہ ہو سکے۔اس موقع پر کراچی کے پانی کے مسئلے پر وزیر اعظم عمران خان نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے بھی ملاقات کی۔یم ڈی واٹر بورڈ بار بار فنڈز کی کمی کا رونا روتے رہے جس پر وزیراعظم نے کہاکہ آپ بار بار پیسہ نہ مانگیں بلکہ کام کے بارے میں پیشرفت بتائیں لگتا ہے ساری پیشرفت کاغذوں پر ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گرین لائن منصوبے کا کیا ہوا۔ وزیراعظم صوبائی حکومت سے غیر مطمئن دکھائی دئیے تاہم منصوبے کے نگراں صالح فاروقی وزیراعظم کو سب اچھا کی رپورٹ دینے میں کامیاب ہو گئے۔انہوں نے وزیراعظم کو کہاکہ گرین لائن منصوبہ مکمل ہو گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گرین لائن منصوبے پر 35 فیصد بھی کام مکمل نہیں ہوا، گرومندر سے کے پی ٹی گیٹ تک منصوبے کا وجود ہی نہیں اور اس سلسلے میں ایک بھی اینٹ نہیں رکھی گئی‘ جس رفتار سے کام ہو رہا ہے اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ منصوبہ آئندہ 10 برس میں بھی مکمل نہیں ہو سکتا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings