Advertisement

اگر دنیا میں کوئی ملک یہ کام کرسکتاہے تو وہ صرف پاکستان ہی ہے امریکی فوج کے جرنیل نے ایسا اعتراف کر لیا کہ دنیا چونک گئی

Advertisements

 افغانستان میں پاکستان کے امن کردار کا امریکا نے بھی اعتراف کر لیا، امریکی جنرل مکینزی نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن

نہیں ہے، جمعرات کو امریکی سینیٹ کے آرمڈ کمیٹی میں افغانستان امن سے متعلق امریکی جنرل نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا حل پاکستان کے طویل مدتی مفاد میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معلوم ہے کہ اس کا افغانستان امن میں ایک بڑا کردار ہے۔

دوسری طرف 

نئی حکومت کے لیے ملک کا معاشی بحران چیلنج بن گیا ہے،ڈالر کی قدر اور شرح سود کا تعین گورنر اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس تمام معاملے میں گورنر اسٹیٹ بینک کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ڈالر کی قیمت میں دو بار بہت زیادہ اضافہ ہوا جس سے روپے کی بے قدری ہوئی اور حکومت کے لیے یہ تمام معاملہ پریشانی کا باعث بن گیا۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ ایک بار ڈالر کی قیمت میں ایک ساتھ 11 روپے کا اضافہ ہو گیا تاہم روپے کی قدر میں کمی کی وجہ اوپن مارکیٹ نہیں، وزیر خزانہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ بیلنس آف پیمنٹ کا بھی کوئی بحران نہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ جس دن ڈالر کی قیمت بڑھی اس دن مارکیٹ میں اس کی طلب زیادہ نہیں تھی تو پھر ڈالر آخر بڑھا کیسے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہر روز گورنر اسٹیٹ بینک ٹریژری ہیڈز کو فون کرتے ہیں اور ڈالر کی حدود کا بتاتے ہیں مگر اس روز گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے ٹریژری ہیڈز کو فون کر کے کہا آج کوئی حد نہیں جو مرضی کر لیں یعنی کے آپ کی مرضی ہے ڈالر کی جو قیمت بڑھا لیں اور اس کے بعد چند گھنٹوں میں ڈالر کی قیمت 140 روپے سے زائد ہو گئی۔ واضح رہے امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی بے قدری کا تسلسل جاری ہے ۔بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید میں90پیسے اور قیمت فروخت میں80پیسے کااضافہ اوراوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں 50پیسے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق بدھ کوانٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید میں90پیسے اور قیمت فروخت میں80پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا، جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید 137.65روپے سے بڑھ کر138.55روپے اورقیمت فروخت137.85روپے سے بڑھ کر138.65روپے کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالرکی قیمت میں 50پیسے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید137.50روپے سے بڑھ کر138.00روپے اورقیمت فروخت138.00روپے سے بڑھ کر138.50روپے ہوگئی ۔بدھ کویوروکی قیمت میں30پیسے کی کمی جبکہ برطانوی پائونڈکی قیمت میں استحکام رہا،جس کے نتیجے میں بالترتیب یوروکی قیمت خرید155.80روپے سے گھٹ کر155.50روپے اورقیمت فروخت157.50روپے سے گھٹ کر157.20روپے جبکہ برطانوی پائونڈ کی قیمت خرید175.00روپی اورقیمت فروخت176.80روپے ہوگئی۔
فاریکس رپورٹ کے مطابق سعودی ریال کی قیمت میں20پیسے اوریواے ای درہم کی قیمت میں10پیسے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں باالترتیبسعودی ریال کی قیمت خرید36.50روپے سے بڑھ کر36.70روپی اورقیمت فروخت36.80روپے سے بڑھ کر37.00روپے جبکہ یواے ای درہم کی قیمت خرید37.50روپے سے بڑھ کر37.60روپے اورقیمت فروخت37.80روپے سے بڑھ کر37.90روپے ہوگئی۔بدھ کوچینی یوآن کی قدرمیںاستحکام رہا،جس کے نتیجے میں چینی یوآن کی قیمت خرید19.30روپی اور قیمت فروخت20.30روپے ہوگئی۔

بینک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس تمام معاملے میں گورنر اسٹیٹ بینک کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ڈالر کی قیمت میں دو بار بہت زیادہ اضافہ ہوا جس سے روپے کی بے قدری ہوئی اور حکومت کے لیے یہ تمام معاملہ پریشانی کا باعث بن گیا۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ ایک بار ڈالر کی قیمت میں ایک ساتھ 11 روپے کا اضافہ ہو گیا تاہم روپے کی قدر میں کمی کی وجہ اوپن مارکیٹ نہیں، وزیر خزانہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ بیلنس آف پیمنٹ کا بھی کوئی بحران نہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ جس دن ڈالر کی قیمت بڑھی اس دن مارکیٹ میں اس کی طلب زیادہ نہیں تھی تو پھر ڈالر آخر بڑھا کیسے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہر روز گورنر اسٹیٹ بینک ٹریژری ہیڈز کو فون کرتے ہیں اور ڈالر کی حدود کا بتاتے ہیں مگر اس روز گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے ٹریژری ہیڈز کو فون کر کے کہا آج کوئی حد نہیں جو مرضی کر لیں یعنی کے آپ کی مرضی ہے ڈالر کی جو قیمت بڑھا لیں اور اس کے بعد چند گھنٹوں میں ڈالر کی قیمت 140 روپے سے زائد ہو گئی۔ واضح رہے امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی بے قدری کا تسلسل جاری ہے ۔بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید میں90پیسے اور قیمت فروخت میں80پیسے کااضافہ اوراوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں 50پیسے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق بدھ کوانٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید میں90پیسے اور قیمت فروخت میں80پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیاگیا، جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید 137.65روپے سے بڑھ کر138.55روپے اورقیمت فروخت137.85روپے سے بڑھ کر138.65روپے کی بلندترین سطح پر پہنچ گئی۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالرکی قیمت میں 50پیسے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید137.50روپے سے بڑھ کر138.00روپے اورقیمت فروخت138.00روپے سے بڑھ کر138.50روپے ہوگئی ۔بدھ کویوروکی قیمت میں30پیسے کی کمی جبکہ برطانوی پائونڈکی قیمت میں استحکام رہا،جس کے نتیجے میں بالترتیب یوروکی قیمت خرید155.80روپے سے گھٹ کر155.50روپے اورقیمت فروخت157.50روپے سے گھٹ کر157.20روپے جبکہ برطانوی پائونڈ کی قیمت خرید175.00روپی اورقیمت فروخت176.80روپے ہوگئی۔
فاریکس رپورٹ کے مطابق سعودی ریال کی قیمت میں20پیسے اوریواے ای درہم کی قیمت میں10پیسے کااضافہ ریکارڈ کیاگیا،جس کے نتیجے میں باالترتیبسعودی ریال کی قیمت خرید36.50روپے سے بڑھ کر36.70روپی اورقیمت فروخت36.80روپے سے بڑھ کر37.00روپے جبکہ یواے ای درہم کی قیمت خرید37.50روپے سے بڑھ کر37.60روپے اورقیمت فروخت37.80روپے سے بڑھ کر37.90روپے ہوگئی۔بدھ کوچینی یوآن کی قدرمیںاستحکام رہا،جس کے نتیجے میں چینی یوآن کی قیمت خرید19.30روپی اور قیمت فروخت20.30روپے ہوگئی۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings