Advertisement

اللہ تعالیٰ کی ذات

Advertisements

حضرت ابو خدریؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ سے چند لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہﷺ کیا ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھ سکیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں دیکھو گے۔ دوپہر کے وقت جب ابر وغیرہ کچھ نہ ہو اور موسم صاف ہو تو سورج کی روشنی دیکھنے میں کچھ احتلاف ہے؟عرض کیا نہیں اس کے آپﷺ نے فرمایا چودھویں کی رات کو جب ابر موجود نہ ہو تو کیا تمہیں چاند دیکھنے میں کوئی احتلاف ہے؟عرض کیا نہیں یا رسول اللہﷺ۔تو نبیﷺ نے

فرمایا کہ پس اسی طرح قیامت کے روز قیامت کے روز تم رب تبارک تعالیٰ اور کوئی دقت نہیں ہو گی جیسے سورج اور چاند دیکھتے نہیں ہوتی۔ اور قیامت کا دن ایسا دن ہو گا کہ پکارنے والا پکارے گا کہ تم جو آدمی جس کو پاجتا تھا اسی کے ساتھ ہو لے لہذا اللہ کے سوا پرستش کرنے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔چنانچہ جھوٹے بجاری اپنے چھوٹے معبودوں کے ساتھ دوزخ میں گریں گے۔ اور صرف وہی باقی رہ جائیں گے جو صرف اللہ کی زات کو پوجتے تھے۔ اس میں اچھے برے سب ہی ہوں گے۔پھر کچھ اہل کتاب یعنی یہودی بلائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ تم اللہ کی زات کے علاوہ کسی کو پوجتے تھے تو وہ جواب دیں گے کہ ہاں ہم حضرت عزیز کو پوجتے تھے کہ وہ خدا کے بیٹے تھے۔ تو ان سے کہا جائے گاکہ تم جھوٹ کہتے ہو کیونکہ نا اللہ کی بیوی ہے اور نہ ہی بیٹا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم کو پیاس لگی ہے تھوڑا سا پانی مل جائے گالہذا ان کے لیے ریتے کا ایک میدان بنایا جائے گا جو پانی کی طرح چمک رہا ہو گا حالانکہ وہ دوذخ ہو گا اور ان کو اس کے پاس بھیجا جائے گا اور وہ ان کو جلا کر بھسم کر دے گااور اس کے بعد انصاریٰ کو بلایا جائے گا اور ان سے بھی یہی سوال ہو گاوہ بولیں گے کہ ہم یسوع مسیح ؑکو پوجتے تھے وہ خدا کے بیٹے ہیں جواب ملے گا کہ تم لوگ کازب ہوکیونکہ خدا تعالیٰ کی کوئی بیوی یا بیٹا نہیں ہے۔ اور وہ دوزخ میں گر پڑیں گے۔ پھر میدان میں وہی ہوں گے جو اللہ کی عبادت کرتے ہوں گے۔

اور ان میں اچھے برے سب ہی ہوں گے۔ مگر اللہ ان کی صورت پر نظر نہیں آئے گا جس کو وہ جانتے تھے تو ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں کس کا انتظار ہے؟حالانکہ ہر فرقہ اپنے ٹھکانے پر جا چکا ہو گا۔ جواب دیں گے کہ ہم اس معبود برحق کی راہ دیکھ رہےہیں جس کی عبادت کرتھے تھے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہو ں پھر سب لوگ کہیں گے ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک اور ساجھی نہیں بناتے یہ جملہ دو تین بار کہیں گے۔بطور مسلمان یہ ہم سب کا عقیدہ ہے کہ ہمیں آخرت میں اپنے دنیا میں کئے گئے تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔ مختلف حوالوں کو مدنظر رکھا جائے تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ بروز محشر جہاں نہ ماں اپنے بیٹے کو پہچانے گی اور نہ بیٹا اپنی ماں کو۔ ہر شخص ایک ایک نیکی کو ترس رہا ہوگا اور خود پر افسوس کرے گا کہ میں نے دنیا میں رہ کر نیک اعمال کیوں نہ کئے اور میں کیوں کر گناہوں میں پڑا۔:حضور پاک ﷺ کا فرمان عالیشان کا مفہوم ہےقیامت کے دن کوئی ایسی آنکھ نہ ہوگی جو رو نہیں رہی ہوگی۔ پس صرف تین ایسی آنکھیں ہیں جو نہیں رو رہی ہوں گی۔ان تین آنکھوں میں سے پہلی آنکھ وہ ہے جو غیر محرم کی طرف دیکھنے سے بچی۔دوسری وہ آنکھ جو اللہ عزوجل کی راہمیں اس کے راستے کے اندر جاگتی رہی، پہرہ دیتی رہی یا سرحدوں کے اوپر حفاظت میں مشغول رہی۔اور تیسری وہ آنکھ جو جس کے بارے میں جان کر آپ کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ فرمایا تیسری وہ آنکھ جس سے خوف خدا میں مکھی کے سر کے برابر بھی آنسو نکلا ہو۔

حضور پاک ﷺ کے فرامین کی روشنی میں نظر کی حفاظت بے حد ضروری ہے اور اللہ عزوجل نے خصوصیت کے ساتھ قرآن پاک میں اس کا تذکرہ ارشاد فرمایا ہے۔:مفہوم ملاحظہ فرمائیںاور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کریں، یہ بہتر ہے ان کے لئے۔بے شک اللہ ان کے کاموں کی خبر رکھتا ہے یعنی اگر تم اپنی نظر کو محفوظ نہیں رکھ پاتے تو مت سمجھو کہ کسی نے دیکھا نہیں ہے، تمہارا رب دیکھ رہا ہے۔ اس کی نظر سے کوئی شے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایک ایک چیز لکھی جارہی ہے اور اس کا حساب کل تمہیں دینا پڑے گا۔ بے شک وہ جانتا ہے وہ دیکھ رہا ہے اگر تم بچ جاؤ تو وہ پھر بھی دیکھ رہا ہے اور اگر تم نہ بچو تو وہ پھر بھی دیکھ رہا ہے۔دوسری طرف مسلمان عورتوں کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ اے محبوب مسلمان عورتوں کو بھی یہ حکم دیں کہ وہ بھی اپنی نظروں کو نیچا رکھیں۔اگر مرد کو روکا گیا ہے کہ وہ غیر محرم عورت کو نہ دیکھے تو عورت کو بھی روکا گیا ہے۔ اس لئے ہر صاحبِ ایمان مسلمان کو اپنی آنکھوں کی حفاظت کرنی چاہیئے اپنی آنکھوں کو ان آنکھوں میں شمار کرنا چاہیئے جن سے قیامت کے دن آنسو نہ گر رہے ہوں یا نہ رو رہی ہوں۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی آنکھوں کی حفاظت کرنے والا سچا پکا مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings