Advertisement

اسلام کے مطابق آدمی کو اپنی بیوی پر کتنا خرچ کرنا چاہیے؟ وہ بات جسے جان کر گھر میں تمام جھگڑے ختم ہوجائیں

Advertisements

اہل مغرب نے اسلام میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بہت پروپیگنڈا کر رکھا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ جس طرح کے حقوق اسلام نے خواتین کو دیئے ہیں اس کا تصور دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں پایا جاتا۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہترین خاوند اسی شخص کو قرار دیا گیا ہے جو اپنی اہلیہ کی تمام ضروریات اپنی حیثیت کے مطابق پوری کرتا ہے۔

اسلام میں عورت کے حقوق کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ مرد کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ چاہے تو اپنی اہلیہ کے اخراجات اٹھائے اور چاہے تو اس پر ہی اِن کا بوجھ ڈال دے، بلکہ اس پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے اخراجات کا مناسب طور پر اہتمام کرے، البتہ اسے یہ گنجائش بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق جتنا ممکن ہو خرچ کرے۔ خصوصاً جب کوئی خاتون بچے کی پرورش کر رہی ہو تو اس کی تمام ضروریات کا بہترین ممکن طور پرخیال رکھنے کا حکم دیا گیاہے۔

اسلام نے گھریلو مسائل کے بطریق احسن حل کے لئے یہ اصول بیان کر دیا ہے کہ محدود ذرائع والا خاوند اپنی اہلیہ پر اپنے محدود ذرائع کے مطابق اخراجات کرے اور جو صاحب حیثیت ہے اس پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کھل کر خرچ کرے۔ یعنی مرد بخل سے کام نہ لے بلکہ جہاں تک اس کی گنجائش ہو اہلیہ کی جائز ضروریات کے لئے بخوشی خرچ کرے۔

جب کوئی شخص خرچ کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو کس جگہ پر اپنی رقم کو خرچ کرنا سب سے افضل ہے، اس کا اندازہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث سے کیا جا سکتا ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے: ایک دینار جو آپ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، ایک دینار جو آپ غلام کو آزاد کروانے کیلئے خرچ کرتے ہیں، ایک دینار جو آپ کسی مفلس کو خیرات میں دیتے ہیں اور ایک دینار جو آپ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہیں ، ان میں سے سب سے زیادہ اجر اس کا ہے جو آپ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہیں (ریاض الصالحین، جلد اول ، حدیث 289)۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings