Advertisement

اسد عمر نے ٹیکس دینے والے پاکستانیوں پر بجلیاں گراں دی ، نہ دینے والوں کو خوشخبری سنا دی ، پاکستانیوں کے منہ کھلے کے کھلے رہے گئے

Advertisements

سپیکراسدقیصرکی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیرخزانہ اسدعمرنے سپلیمنٹری فنانس بل پیش کردیا۔قومی اسمبلی میں پیش کردہ فنانس بل کے مطابق 4 لاکھ روپے سالانہ تک آمدن پرٹیکس نہیں ہوگا جبکہ 4 لاکھ سے 8 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ایک ہزارٹیکس ہوگااور 8 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 2 ہزارروپے ٹیکس ہوگا۔فنانس بل میں مزید کہا گیا ہے کہ 12 سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 5 فیصدٹیکس ہوگاجبکہ 24 سے 30 لاکھ روپے سالانہ آمدن

پر60 ہزارفکسڈاور15 فیصدٹیکس ہوگا۔اسی طرح 30 سے 40 لاکھ روپے آمدن پرڈیڑھ لاکھ روپے فکسڈٹیکس ہوگااورفکسڈ کے علاوہ 20 فیصدٹیکس بھی دیناہوگاجبکہ 40 سے 50 لاکھ روپے آمدن پرساڑھے 3 لاکھ روپے فکسڈٹیکس ہوگاجس کے ساتھ آمدن پر25 فیصدٹیکس بھی ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا اور ضمنی بجٹ پیش کردیا۔وزیر خزانہ اسد عمر نے بجٹ ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کر دیں۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت جاری ہے۔اس موقع پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ ترامیم کی منظوری کے بعد انہیں قومی اسمبلی میں پیش کیا جارہا ہے۔اس موقع پرایوان سے خطاب کرتے ہوئے
iframe width=”560″ height=”315″ src=”https://www.youtube.com/embed/5hteeXGQ9ak” frameborder=”0″ allow=”autoplay; encrypted-media” allowfullscreen>
وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔جلی کے سیکٹر میں ساڑھے چار سو ارب روپے کا ایک سال میں خسارا ہوا۔اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو خسارہ2 ہزار 900 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔بیرونی قرضے 60 ارب سے بڑھ کر 95 ارب تک پہنچ گئے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہزرمبادلہ کے ذخائر تیزی سےگر رہے ہیں۔اگر ہم نے فیصلے نہ کیے اور زرمبادلہ ذخائر مزید گر سکتے ہیں۔روپے کی قدر میں کمی سے پٹرول مزید 20 روپے مہنگا ہو سکتا ہے۔۔گیس کے تمام معاہدے ڈالر میں ہوتے ہیں،کل کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔۔بجلی کے سیکٹر میں ساڑھے چار سو ارب روپے کا ایک سال میں خسارہ ہوا۔گردشی قرضے 1200 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فیصلہ کرنا ہےکیا ہم اسی طریقے سےآگے چلتے رہیں گے یا آگے چلنے کی کوشش کرینگے۔انہوں نے بتایا کہ 8276 گھروں کی تعمیر کیلیے ساڑھے 4 ارب روپے ریلیز کیے جائیں گے۔پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں۔پٹرولیم لیوی ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے جبکہ ریگولٹری ڈیوٹی کی مدمیں ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں۔مہنگے فونز پر بھی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔بجٹ میں سگریٹ پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔1800 سی سی سے اوپر گاڑیوں پر ڈیوٹی 20 فیصد کر دی گئی۔سالانہ 12 لاکھ آمدنی والے افراد سے اضافی ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہا۔سالانہ 40 سے 50 لاکھ آمدنی والوں کو 25 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔صحت کے سلسلے میں فی خاندان 5لاکھ 40 ہزار روپے سالانہ دئیے جائیں گے۔وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ بینگ ٹرانزیکشن پر نان فائلر 0.6 فیصد ٹیکس ادا کرے گا۔رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ 725 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔دیامر اور بھاشا ڈیمز کو 6 سال میں تعمیر کیا جائے گا۔انکا کہنا تھا کہ نان فائلر اب پاکستان میں گاڑیاں اور جائیداد خرید سکیں گے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings