چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ہے اور اس کے تیار کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وبا کی صورت میں پھیلے وائرس کو ختم کرنے کے لیے یہ ایک طاقتور دوا ہو گی اور اس کے استعمال سے کورونا وائرس یقینی طور پر ہلاک ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ یہ امر اہم ہے کہ کورونا وائرس

کی نئی قسم نے چین ہی کے ایک شہر ووہان میں گزشتہ برس دسمبر میں جنم لیا تھا۔ ووہان میں پیدا ہونے والا وائرس اب ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ اس کی لپیٹ میں لاکھوں افراد آ کر بیمار ہیں اور کئی ایک کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ وائرس نے تین لاکھ سے زائد انسانوں کی زندگیوں کے چراغ گْل بھی کر دیے ہیں۔چین کی معتبر پیکنگ یونیورسٹی کے حیاتیات سے متعلق شعبے میں دوا کے ابتدائی ٹیسٹ شروع ہو چکے ہیں۔ دوا کو تیار کرنے والی محققین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ مکمل میڈیسن ہو گی جو وباء کا دورانیہ کم کرنے کے ساتھ ساتھ کم مدت ہی میں کسی مریض کو بیماری سے نجات دے گی۔ صحت یاب ہونے والے شخص میں کم مدت کے لیے قوتِ مدافعت بھی پیدا کرے گی۔یہ دوا پیکنگ یونیورسٹی کے شعبے ایڈوانس انوویشن سینٹر برائے جینومکس میں تیار کی جا رہی ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر سنی شی نے دوا کے بارے میں خصوصی معلومات اے ایف پی کو بتائی ہیں۔سنی شی کے مطابق فی الحال جانوروں پر دوا کی آزمائش کامیاب رہی ہے۔ جب کووڈ 19 کے وائرس کی لپیٹ میں آئے ہوئے چوہے کو دوا دی گئی تو پانچ روز میں اس میں انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے اور اس میں مرض کی شدت واضح طور پر کم ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر دوا کی تیاری میں انسانوں کے امیون سسٹم کا سہارا لیا گیا ہے۔
اس کے لیے سات صحت یاب مریضوں کے خون کے نمونے لے کر تجربات شروع کیے گئے۔چینی دارالحکومت میں واقع تحقیقی ادارے کی جاری ریسرچ کے ابتدائی مثبت نتائج پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ سائنسی جریدے سیل‘ میں شائع ہوئی ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک مکمل دوا کی جانب قدم اٹھنا شروع ہو گئے ہیں اور جلد ہی دنیا کو اس تناظر میں خوش خبری دی جائے گی۔ محققین پْرامید ہیں کہ دوا کے استعمال سے مریض کے اندر موجود وائرس اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا اور یہی دوا دنیا بھر میں کووڈ 19 کی وبا کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ایڈوانس انوویشن سینٹر برائے جینومکس کے ڈائریکٹر کے مطابق دوا کی تیاری کے تجربات سے نتائج حاصل کرنے کا عمل رات دن جاری ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ چینی ادارے کے ریسرچرز وائرس کے انسداد کی دوا تیار کر رہے ہیں اور یہ کوئی مدافعتی ویکسین نہیں ہو گی۔ اس دوا کے انسانوں پر کلینیکل ٹیسٹس کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ اس دوا کے آزمائشی تجربات آسٹریلیا اور دوسرے ممالک میں کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا چکی ہے۔عالمی ادارہ صحت پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والی ویکسین کی تیاری میں ابھی مزید بارہ سے اٹھارہ ماہ درکار ہیں۔ اس ضمن میں پلازمہ تھراپی کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے۔ صرف چین میں سات سو سے زائد مریض اس پلازمہ تھراپی سے ٹھیک ہوئے ہیں۔