Advertisement

آپ چانس لیں ، کارکردگی دکھائیں ، میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں ، بیوروکریسی کو سیاسی اثرو رسوخ سے آزاد کروائیں گے : عمران خان

Advertisements

وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ بیورکریسی کو سیاسی اثرو رسوخ سے آزاد کروائیں گے ، میں آپ کے مسائل کو سمجھتاہوں ، میں چاہتاہوں آپ ہمارے ریفارمز ایجنڈے کو سپورٹ کریں ،بیوروکریٹ جب تک کام نہیں کریں گے ہمارا ریفارم پروگرام رہ جائے گا، جب تک سرکاری افسران پالیسی پرعملدرآمد نہیں کرائیں گے ہم کامیاب نہیں ہوسکتے، آپ کا سیاسی جھکاو جس طرف مرضی ہو ،آپ مجھے پسند کرتے ہیں یا نہیں ، مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ، آپ کارکردگی دکھائیں، میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں ۔

وزیراعظم ہاﺅس میں بیوروکریٹس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہناتھا کہ میرے خطاب کا مقصدآپ کو حقائق سے آگاہ کرناہے ،ہم تو آتے جاتے رہتے ہیں مگر سرول سرونٹس مستقل رہتے ہیں ، سرکاری ملازمین ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ، سول سرونٹس معاشی صورتحال کو بہتر طور پر جانتے ہیں ۔عمران خان کا کہناتھا کہ کبھی پاکستان کو اتنے چیلنج نہیں تھے جو آج ہیں ، قرضہ دس سالوں میں چھ ہزار ارب سے تیس ہزار ارب ہو گیاہے ،ہر روز ہم قرض پر چھ ارب روپے انٹرسٹ دے رہے ہیں ، ہم جب تک اپنے قرضوں کی قسطیں ادا کرتے ہیں تو ملک چلانے کیلئے ہمیں مزید قرضہ لیناپڑتاہے ، اس سے نکلنے کیلئے ہم نے اپنے آپ کو بدلناہے۔ سیاستدانوں ،عوام اور بیوروکریسی کو اپنے آپ کو بدلنا ہو گا ، اگر ہم نہیں بدلیں گے تو آگے تباہی ہے ۔ہمارے پاس ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں ہے ، کلاسک ڈیٹ ٹریپ میں قرضوں کو اتارنے کیلئے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں ۔عمران خان کا کہناتھا کہ دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں ، محنت کی جائے تو سب کچھ حاصل کیا جاکستاہے ،خود کو بدلنا پڑتاہے ،ہماے پاس ملک چلانے کیلئے خزانہ ہی خالی ہے ،ہم آزاد تو ہو گئے لیکن ہم نے اپنے مائینڈ سیٹ کو تبدیل نہیں کیا ہے ،

انگریز ہمارے پیسوں پر شاہانہ زندگی گزار رہے تھے ،ہم نے انگریزوں کا مائنڈ سیٹ ختم نہیں کیا ،ہماری ایلیٹ کی سوچ وہی ہے جو کہ انگریز چھوڑ کر گئے تھے ،اورنج ٹرین جیسے منصوبے قرض لے کر بنائے گئے جو کہ نقصان میں ہیں ،ہم نے اپنی پور ی سوچ تبدیل کرنی ہے ۔عمران خان نے کہا کہ احتساب کے بغیر ملک نہیں بچ سکتا، جس سطح کی کرپشن ہے، سارا مسئلہ ہی کرپشن ہے، پیسہ چوری علیحدہ ہوا لیکن پیسہ چوری کرنے کے لیے جو ادارے تباہ کیے گئے اس نے ملک تباہ کردیا، تیسری دنیا کی وجہ کرپشن ہے، پیسہ چوری کرنے کے لیے ادارے تباہ کیے جاتے ہیں، اگر آج مغرب میں شفافیت ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ ہم سے زیادہ ایماندار ہیں بس ان کے ادارے مضبوط ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے لیے احتساب ضروری ہے، بیوروکریسی کی جو شکایات آئیں اس پر چیئرمین نیب سے بات کی ہے، انہیں کہا ہے کہ اگر کسی بیوروکریٹ سے تفتیش کرنی ہے تو اس کی تذلیل نہ کی جائے، بیوروکرٹ اگر کام نہیں کرے گا تو ہم جتنی مرضی پالیسی بنائیں کامیاب نہیں ہوں گے، ہم بڑا رسک لے رہے ہیں۔وزیراعظم کا کہناتھا کہ میں آپ کو یقین دہانی کرواتاہوں کہ آپ چانس لیں، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں ،

میں نے بھی بہت غلطیاں کی ہیں لیکن غلطیوں کادفاع کرنا غلط ہے ، آپ سے اگر غلطی ہوتی ہے تو میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں ،غلطی اور فنانشل چوری میں فرق کریں ،آزادی سے کام کریں ،یقین دلاتاہوں کہ کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہو گی ، میں یقنی بناﺅں گا کہ آپ پر کسی قسم کا غلط پریشر نہ ہو۔عمران خان کا کہناتھاکہ آپ کا جومرضی سیاسی جھکاﺅ ہو ،میں آپ کو پسندہوں یا نہیں، مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، مجھے آپ کی کارکردگی سے مطلب ہے ،آپ ملک کیلئے کام کریں میں آپ کے ساتھ ہوں ۔ملک کیلئے احتسا ب ناگزیر ہے ،سارا مسئلہ کرپشن کاہے ، اداروں میں بڑی سطح کی کرپشن ہے ،احتساب کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings