Advertisement

آشیانہ اسکینڈل میں احتساب عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا

Advertisements

مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ریمانڈ میں چودہ روز کی توسیع کر دی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق شہباز شریف کو آج احتساب عدالت لایا گیا ۔ شہبازشریف کو سید نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت میں ملزم شہباز شریف کی پیشی پر کمرہ عدالت میں وکلا کے نعروں پر جج سید نجم الحسن نے کہا کہ اس شور شرابے میں کیسے کیس کی سماعت کروں

گا؟ احتساب عدالت میں سماعت کے آغاز پرنیب کے وکیل نے شہبازشریف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ریمانڈ میں اسمبلی اجلاس کی وجہ سے تفتیش نہ ہوسکی۔
نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں نیب کورٹ سے استدعا کی کہ شہباز شریف کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔شہبازشریف نے عدالت میں کہا کہ حلفاً کہتا ہوں پروڈکشن آرڈرکے دوران بھی مجھ سے تفتیش کرتے رہے۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم شہبازشریف نے انہیں دھمکی دی جس پر شہبازشریف نے کہا کہ میں نے کوئی دھمکی نہیں دی ، مجھ پر عائد یہ الزام غلط ہے۔

نیب کورٹ کے جج سید نجم الحسن نے عدالت کے باہر ہونے والے شور اور نعرے بازی سے تنگ آ کر دوران سماعت حمزہ شہباز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سمجھائیں انہیں، عدالت کا ماحول خراب نہ کریں، حمزہ شہبازنے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے کارکنان نہیں بلکہ وکلا ہیں۔ شہبازشریف کے وکیل نے دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے آج تک کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا، جیسے تفتیش کی اس کے بعد جسمانی ریمانڈ کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ احد چیمہ نے ایک جعلی فزیبلٹی رپورٹ بنائی، شہبازشریف نے کہا کہ میں نے توبتایا فزیبلٹی رپورٹ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ نیب کورٹ نے جسمانی ریمانڈ کی توسیع کے نیب کے مطالبے کو منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کے ریمانڈ میں 14 روزہ کی توسیع کر دی۔ عدالت نے شہباز شریف کو 24 نومبر کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔
جس کے بعد نیب شہباز شریف کو لے کر نیب کے دفتر روانہ ہو گئی۔ دوسری جانب نیب نے رمضان شوگر ملز پر قومی خزانے کو استعمال کرتے ہوئے پُل تعمیر کرنے اور قومی خزانے کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کے الزام میں گرفتاری ڈال دی ہے۔ نیب کے مطابق رمضان شوگرملزکو فائدہ دینےکے لیے پل تعمیرکرایا گیا اور ذاتی مفادکے لیے قومی خزانے کا استعمال کیا گیا۔
نیب ذرائع کے مطابق رمضان شوگرملز کو فائدہ دینے کے لیے مبینہ طورپر سرکاری خزانےسے پل تعمیر کروایا گیا، چنیوٹ میں پل کی تعمیرپر مبینہ طورپر23 کروڑ کی لاگت آئی اور ذاتی مفاد کے لیے قومی خزانے کا استعمال کیا گیا۔ یاد رہے کہ 6 نومبر کو مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کا 10 نومبر تک راہداری ریمانڈ منظور کیا گیا تھا۔
شہبازشریف کی گذشتہ پیشی اسلام آباد کی نیب کورٹ میں ہوئی تھی۔جہاں عدالت کے سامنے شہباز شریف نے کہاکہ تفتیش کو ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے لیکن تاحال آدھے دھیلے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہو سکی۔ ابھی تک مجھے بتایا نہیں گیا کہ آخر کرپشن کہاں ہوئی۔ تفتیشی افسر سیشن کے بعد بھی مجھ سے تفتیش کرتے رہے ہیں۔تفتیشی افسر سے پوچھیں میں صحیح کہہ رہا ہوں یا غلط۔
احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ یہ بات آپ لاہور کی متعلقہ احتساب عدالت کو بتائیے گا۔ شہباز شریف نے استدعا کی کہ یہ بات چارج شیٹ میں بھی لکھئے گا۔ پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر نے کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے راہداری ریمانڈ ضروری ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ یہ پھر میرے پاس کیوں لے کر آگئے ، میرے پاس ان کا کیس نہیں ہے جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 9 نومبر تک ہے اسی لیے آپ کے پاس راہداری ریمانڈ کے لیے پیش کیا جس پر احتساب عدالت نے شہباز شریف کا 10 نومبر تک کا راہداری ریمانڈ منظور کر لیا تھا۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings