Advertisement

آئی ایم ایف کے پاس چینی قرضوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کیوں گئے؟ وزیر خزانہ اسد عمر نے امریکہ کو دوٹوک جواب دے دیا

Advertisements

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے آئی ایم ایف قرض کوسی پیک سے جوڑنے کے امریکی الزامات مسترد کردیے،آئی ایم ایف کا قرضہ سی پیک کی ادائیگی پر خرچ نہیں ہوگا، چین کے قرضوں کی تفصیلات آئی ایم ایف کو دینے میں کوئی حرج نہیں، آئی ایم ایف سے قرض لیں گے لیکن قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے آج یہاں اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جا رہے ہیں لیکن قوم سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ چین کے قرضوں کی تفصیلات آئی ایم ایف کو دینے میں کوئی حرج نہیں۔ سی پیک کے قرضوں کا عوام پر کوئی بوجھ نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کا قرضہ سی پیک کی ادائیگی پر خرچ نہیں ہوگا۔ سی پیک قرضوں کی واپسی کو چین کے ساتھ جوڑنے کا امریکی الزام درست نہیں۔

9 ارب ڈالر کے قرضوں کی واپسی میں چین کا صرف 30 کروڑ قرض ہے۔ چین کو ہم نے آئندہ 3 سال میں 90 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر مزید گرتے جارہے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر 8ارب رہ گئے ہیں۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس قرض مانگنے کیلئے جانے پر عوامی ردعمل کے جواب میں کہا کہ پاکستان نے 18مرتبہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، جس میں 7
بار فوجی حکومتیں اور11 بار سویلین حکومتیں آئی ایم ایف کے پاس جاچکی ہیں۔لیکن ایسے لگ رہا ہے جیسے اب ہم نے کوئی انوکھا کام کردیا ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے پر اس بار زیادہ ردعمل آیا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ کبھی نہیں کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ بدتر معاشی صورتحال کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔ آئی ایم ایف کے پاس وزیراعظم عمران خان اور دوست ممالک کی مشاورت سے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اڑھائی مہینے بعد ہی آئی ایم ایف کے پاس چلی گئی تھی۔

آئی ایم ایف کی شرائط ماننے والی ہوئیں تو نظر ثانی کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ، چین یا کسی دوسرے دوست ملک نے قرض دینے کیلئے کوئی شرائط نہیں رکھیں۔انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیوں سے تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان کومزید نقصان ہوگا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کرنٹ خسارہ 18ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔بیل آؤٹ پیکج معیشت کیلئے ناگزیر ہے۔آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بڑی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہر مہینے 2 ارب روپے بڑھ رہا ہے۔ ستمبر 2018ء میں 8 ارب 40 کروڑ روپے تک آگئے ہیں۔واضح رہے وزیرخزانہ اسد عمر اور حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے پر شدید ردعمل کا سامنا ہے۔

کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت نے انتخابی مہم اور اپنے جلسوں میں باربار اعلان کیا تھا کہ قرض نہیں مانگیں گے۔ کبھی آئی ایم ایف کے پاس قرض مانگنے نہیں جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے سے بہتر ہے خودکشی کرلوں۔ تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں کوان کے انہی نعروں کے باعث اب شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو ملکی کرنٹ خسارے اور گرتی ہوئی معاشی صورتحال کو سنبھالا دینے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ حکومت کو کوشش کرنی چاہیے کہ نئے قرضوں کا بوجھ عوام پر نہ پڑنے دیا جائے۔

Advertisement

x

We use cookies to give you the best online experience. By agreeing you accept the use of cookies in accordance with our cookie policy.

I accept I decline Privacy Center Privacy Settings